کمشنر پولیس حیدرآباد کی جانب سے فون ٹیپنگ کیس کو غیر قانونی قراردینے پر ہریش راو کا اعتراض
ہریش راؤ نے یہ ردعمل سجنار کی اس ایکس (ٹویٹر) پوسٹ کے جواب میں دیا جس میں کہا گیا تھا کہ ایس آئی ٹی نے غیر قانونی فون ٹیپنگ کیس میں گجویل کے ایم ایل اے اور سابق وزیراعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ سے پوچھ گچھ مکمل کر لی ہے۔
حیدرآباد: تلنگانہ کے سابق وزیروبی آرایس لیڈرہریش راو نے حیدرآباد کے پولیس کمشنر اور خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ وی سی سجنار کے ان ریمارکس پر سخت اعتراض کیا جس میں انہوں نے فون ٹیپنگ کیس کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔
ہریش راؤ نے دلیل دی کہ کسی بھی معاملہ کو عدالتی فیصلے سے قبل غیر قانونی قرار دینا قانونی طور پر ناقابل قبول اور آئین کے خلاف ہے۔
ہریش راؤ نے یہ ردعمل سجنار کی اس ایکس (ٹویٹر) پوسٹ کے جواب میں دیا جس میں کہا گیا تھا کہ ایس آئی ٹی نے غیر قانونی فون ٹیپنگ کیس میں گجویل کے ایم ایل اے اور سابق وزیراعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ سے پوچھ گچھ مکمل کر لی ہے۔
ہریش راؤ نے اپنے سخت الفاظ پر مبنی بیان میں کہا کہ تحقیقاتی اداروں کو پیشہ ورانہ اور قانون کے دائرہ میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔ ایک تحقیقاتی ایجنسی کے سربراہ کا عوامی طور پر ایسی زبان استعمال کرنا، جو جاری تحقیقات کے نتائج کا پہلے سے فیصلہ کر لے، انتہائی تشویشناک ہے۔
ہریش راؤ نے دستورِ ہند کے آرٹیکل 21 اور بے گناہی کے مفروضہ کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ جب تک کوئی مجاز عدالت فیصلہ نہ سنا دے کسی بھی الزام کو جرم نہیں مانا جا سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ پولیس کا کام صرف جانچ کرنا ہے، وہ جج یا فیصلہ سنانے والے نہیں ہیں۔ کسی بھی عمل کی قانونی حیثیت کا تعین صرف عدالتی نظرثانی سے ہو سکتا ہے، نہ کہ پولیس کے سرکاری بیانات سے۔