کیا ایران نے جنگ کیلئے خوبصورت خواتین کی فوج تعینات کی ہے؟ ان وائرل ویڈیوز کے پیچھے کی اصل حقیقت آپ کو چونکا دے گی۔
ایران میں لازمی فوجی خدمت کا قانون صرف مردوں کے لیے ہے۔ اس کے علاوہ ویڈیوز میں دکھائی دینے والی خواتین کا لباس بھی ایران کے سخت حجاب قوانین کے خلاف ہے۔ 1979 کے انقلاب کے بعد سے ایران میں عوامی مقامات پر خواتین کے لیے حجاب پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
نئی دہلی: ان دنوں سوشل میڈیا پر ایک عجیب دعویٰ تیزی سے وائرل ہورہا ہے کہ ایران کی خواتین بھی جنگ کے میدان میں اتر آئی ہیں۔ فوجی وردی میں ملبوس خوبصورت ایرانی خواتین کے ویڈیوز میں وہ کہتے ہوئے سنائی دیتی ہیں: “Habibi, come to Iran…”۔ ہاتھوں میں ہتھیار اور پس منظر میں جنگ جیسا منظر دیکھ کر پہلی نظر میں ایسا لگتا ہے جیسے واقعی ایرانی خواتین محاذ پر لڑنے کے لیے پہنچ گئی ہوں۔ مگر حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔
کوئی پائلٹ تو کوئی فوجی
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ان ویڈیوز میں بعض خواتین پائلٹ کی وردی میں نظر آتی ہیں جبکہ کچھ ایرانی فوج کی ڈریس پہنے دکھائی دیتی ہیں۔ ویڈیوز کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ کسی حقیقی جنگی میدان کے مناظر ہوں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ نہ تو یہ خواتین حقیقی فوجی ہیں اور نہ ہی کسی جنگ میں شامل ہیں۔
بی بی سی کی حالیہ تحقیق نے ان ویڈیوز کی حقیقت سامنے لادی ہے۔
سوشل میڈیا پر ویڈیوز کی بھرمار
بی بی سی کی فیکٹ چیک رپورٹ کے مطابق یہ ویڈیوز مکمل طور پر جعلی ہیں اور مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کیے گئے ہیں۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے بعد ٹک ٹاک اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز پر ایسے ویڈیوز کی بھرمار ہوگئی ہے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ انہیں منظم انداز میں وائرل کیا جارہا ہے۔
فیکٹ چیک میں کیسے کھلی حقیقت؟
- بی بی سی کے فیکٹ چیکرز نے ان ویڈیوز میں کئی ایک جیسے پیٹرن دیکھے:
- زیادہ تر سوشل میڈیا اکاؤنٹس گزشتہ ایک ماہ کے دوران بنائے گئے ہیں۔
- یوزرنیم، پروفائل تصاویر اور کیپشن تقریباً ایک جیسے ہیں۔
- ویڈیوز میں احتجاج یا جنگ سے متعلق ہیش ٹیگز استعمال کیے گئے ہیں۔
- اکثر ویڈیوز ایران کی حمایت میں بنائے گئے ہیں۔
زیادہ تر مواد انگریزی زبان میں ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسے بین الاقوامی ناظرین کو ہدف بنا کر تیار کیا گیا ہے۔
ایران کا قانون کیا کہتا ہے؟
ان ویڈیوز میں دکھائی دینے والی خواتین کو دیکھ کر یہ گمان ہوسکتا ہے کہ ایرانی خواتین جنگ میں حصہ لے رہی ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ایران میں خواتین کو فوج میں جنگی کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
ایران میں لازمی فوجی خدمت کا قانون صرف مردوں کے لیے ہے۔ اس کے علاوہ ویڈیوز میں دکھائی دینے والی خواتین کا لباس بھی ایران کے سخت حجاب قوانین کے خلاف ہے۔ 1979 کے انقلاب کے بعد سے ایران میں عوامی مقامات پر خواتین کے لیے حجاب پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
کیا کوئی خفیہ مہم چل رہی ہے؟
ایرانی فوجی خواتین کے اس ٹرینڈ کی ابتدا ٹک ٹاک سے ہوئی اور پھر یہ دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک پھیل گیا۔ پلیٹ فارمز نے اس کے خلاف کارروائی بھی کی ہے۔
ٹک ٹاک نے اسپیم، جعلی انگیجمنٹ اور اے آئی سے تیار کردہ مواد قرار دیتے ہوئے کم از کم 52 اکاؤنٹس کو ہٹا دیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے بھی ایسے کئی اکاؤنٹس معطل کیے ہیں۔ تاہم کمپنی کے مطابق یہ کسی بڑے خفیہ آپریشن کا حصہ معلوم نہیں ہوتا بلکہ زیادہ تر لوگ وائرل ٹرینڈ کے ذریعے ویوز اور پیسہ کمانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حملوں کے اے آئی ویڈیوز بھی وائرل
ایران سے متعلق جنگی حملوں کے اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہے ہیں۔ حال ہی میں ایک ویڈیو میں تل ابیب پر ایران کے میزائل حملے کا دعویٰ کیا گیا تھا، مگر رائٹرز کی تحقیق میں یہ ویڈیو بھی جعلی ثابت ہوا۔
ماہرین کے مطابق ویڈیو میں دکھائی گئی عمارتیں اور شہر کا منظر تل ابیب سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس کے علاوہ گاڑیوں کی غیر حقیقی شکلیں، بگڑی ہوئی تصاویر اور روبوٹک آوازیں واضح کرتی ہیں کہ یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کیا گیا تھا۔