سعودی عرب میں بڑا حملہ، ہائی پروفائل نشانہ پر! (ویڈیو)
علاقائی عہدیداروں کا کہناہے کہ سعودی آرامکو کے سینئر اگزیکٹیو کے دفاتر کل رات کمپنی ہیڈ کوارٹرس پر حوثیوں کے حملے کی زد میں آئے۔ ایران نواز باغی وارننگ دے کر ہائی پروفائل اہداف کو نشانہ بنارہے ہیں۔
قاہرہ۔ (اے پی) دو علاقائی عہدیداروں کا کہناہے کہ سعودی آرامکو کے سینئر اگزیکٹیو کے دفاتر کل رات کمپنی ہیڈ کوارٹرس پر حوثیوں کے حملے کی زد میں آئے۔ ایران نواز باغی وارننگ دے کر ہائی پروفائل اہداف کو نشانہ بنارہے ہیں۔ عہدیداروں کا کہناہے کہ ٹاپ اگزیکٹیو کے زیر استعمال عمارت کی اوپری تین منزلوں کو نقصان پہنچا۔
ایک عہدیدار نے کہاکہ کمپنی کے چیف اگزیکٹیو کا دفتر حملے کی زد میں آیا۔ کوئی زخمی یا ہلاک نہیں ہوا۔ عہدیداروں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ بات بتائی کیونکہ وہ میڈیا سے بات چیت کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔
حوثیوں نے قبل ازیں کہاتھا کہ انہوں نے آرامکو ہیڈ کوارٹرس ظہران کو بلیسٹک میزائل سے نشانہ بنایا۔ سعودی عرب کے حوثیوں کے میزائل اور ڈرونس روکنے میں بڑی مشقت کا سامنا ہے۔ مملکت نے امریکہ جیسے اپنے حلیفوں سے مزید فوجی مدد مانگی ہے۔
علاقائی عہدیداروں کا کہناہے کہ سعودی عرب امریکہ سے اسلحہ خریدنے والا سب سے بڑا ملک ہے اس کے پاس انٹر سیپٹر میزائل گھٹتے جارہے ہیں۔ ماہرین کا کہناہے کہ تمام میزائلس اور ڈرونس کو روک کر مارگرانا ممکن نہیں۔حوثیوں کے پاس اسلحہ کا بڑا ذخیرہ ہے۔ وہ لوگ 1600 کیلو میٹر دو ر تک نشانہ لگاسکتے ہیں۔
بعض وار ہیڈس اپنی سمت بدل لیتے ہیں۔فضاء میں میزائل یا ڈرون کو مارگرانا خطرہ سے خالی نہیں ہوتا۔ کل رات سعودی سیول ڈیفنس نے کہاکہ حوثیوں کی دو بلیسٹک میزائلس کا ملبہ ریاض کے رہائشی علاقوں پر گرا۔ 15 مکانوں کو نقصان پہنچا۔ 4 افراد زخمی ہوئے۔ اسی دوران سعودی‘یمن میں باغیوں کے زیر کنٹرول علاقوں پر فضائی حملے کررہے ہیں۔