حیدرآباد دنیا بھر میں ویکسین کی تیاری کے ایک بڑے مرکز کے طور پر ابھرا: وزیراعلی تلنگانہ
وزیراعلیٰ تلنگانہ اے ریونت ریڈی نے حیدرآباد کے ہائی ٹیکس میں منعقدہ بائیو ایشیا 2026 کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے کہا ہے کہ حیدرآباد اب صرف چارمینار، بریانی اور سافٹ ویئر تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ دنیا بھر میں ویکسین کی تیاری کے ایک بڑے مرکز کے طور پر ابھرا ہے۔
حیدرآباد: وزیراعلیٰ تلنگانہ اے ریونت ریڈی نے حیدرآباد کے ہائی ٹیکس میں منعقدہ بائیو ایشیا 2026 کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے کہا ہے کہ حیدرآباد اب صرف چارمینار، بریانی اور سافٹ ویئر تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ دنیا بھر میں ویکسین کی تیاری کے ایک بڑے مرکز کے طور پر ابھرا ہے۔
اس موقع پر انہوں نے لائف سائنس کے شعبہ میں سرمایہ کاری کے لئے عالمی کمپنیوں کو مدعو کرتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ دو سالوں میں تلنگانہ کے اس شعبہ میں 73,000 کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حال ہی میں داوس میں نئی لائف سائنس پالیسی کا اعلان کیا گیا ہے اور جینوم ویلی کی توسیع کے ساتھ ساتھ ون بائیو جیسے تحقیقی مراکز کا آغاز بھی کیا گیا ہے جبکہ حکومت گرین فارما سٹی کے منصوبہ پر بھی تیزی سے کام کر رہی ہے۔
ریونت ریڈی نے تلنگانہ رائزنگ 2047 ویژن کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا نشانہ2034 تک ریاست کی معیشت کو ایک ٹریلین ڈالر اور 2047 تک تین ٹریلین ڈالر تک پہنچانا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بائیو ایشیا اب صرف ایک علاقائی کانفرنس نہیں رہی بلکہ یہ بائیو ورلڈ بن چکی ہے جس میں دنیا بھر کی 500 بڑی کمپنیوں کے 4,000 سے زائد نمائندے شریک ہیں۔
وزیراعلیٰ نے سرکردہ تاجروں پر زور دیا کہ وہ تلنگانہ میں اپنے عالمی مراکز قائم کریں اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے ادویات کی تیاری اور ڈیجیٹل مینوفیکچرنگ کو فروغ دیں۔
انہوں نے یقین دلایا کہ تلنگانہ کی حکومت، سائنسدان اور ہنرمند نوجوان سرمایہ کاروں کی کامیابی میں برابر کے شراکت دار ہوں گے کیونکہ تلنگانہ کا مطلب بزنس ہے اور ریاست عالمی سطح پر بہترین کلسٹرس کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہے۔