حیدرآباد میں 8 ماہ تک پانی کی قلت کا خدشہ، منجیرہ اور سنگور سے سپلائی متاثر
شہر حیدرآباد میں منجیرہ اور سنگور پراجیکٹس سے پانی کی عدم دستیابی کے باعث آئندہ آٹھ ماہ تک پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ واٹر بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر اشوک ریڈی نے خبردار کیا ہے کہ شہر کے سات اسمبلی حلقوں میں پانی کے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
حیدرآباد: شہر حیدرآباد میں منجیرہ اور سنگور پراجیکٹس سے پانی کی عدم دستیابی کے باعث آئندہ آٹھ ماہ تک پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ واٹر بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر اشوک ریڈی نے خبردار کیا ہے کہ شہر کے سات اسمبلی حلقوں میں پانی کے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اشوک ریڈی کے مطابق، پانی کی قلت کا اثر پٹن چیرو سے جوبلی ہلز تک پڑسکتا ہے۔ خاص طور پر شیرلنگم پلی اسمبلی حلقے میں تقریباً 80 فیصد علاقے پانی کی قلت سے متاثر ہونے کا امکان ہے۔
انہوں نے بتایا کہ زیر زمین پانی کی سطح میں کمی اور منجیرہ و سنگور پراجیکٹس میں پانی کی ناکافی دستیابی کے باعث شہر میں پانی کے مسائل پیدا ہونا ناگزیر دکھائی دے رہا ہے۔
ان حالات میں شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی کی پینے کے پانی کی ضروریات پوری کرنا واٹر بورڈ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ اگر متبادل ذرائع سے پانی کی فراہمی کے انتظامات نہیں کیے گئے تو آئندہ مہینوں میں شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
واٹر بورڈ کے سربراہ کے اس بیان کے بعد متاثرہ علاقوں میں پانی کی فراہمی اور دستیاب آبی وسائل کے بہتر استعمال کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔