جانوروں کے خون کی غیرقانونی ذخیرہ اندوزی کا پردہ فاش، پولیس کی کارروائی, 180 پیکٹس ضبط
کیسرہ پولیس نے ہفتہ کی علی الصبح ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے ستیانارائن کالونی، ناگارم کے حدود میں واقع ایک مٹن شاپ پر جانوروں کے خون کی غیرقانونی ذخیرہ اندوزی کے ریاکٹ کا پردہ فاش کیا ہے۔
میڑچل: کیسرہ پولیس نے ہفتہ کی علی الصبح ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے ستیانارائن کالونی، ناگارم کے حدود میں واقع ایک مٹن شاپ پر جانوروں کے خون کی غیرقانونی ذخیرہ اندوزی کے ریاکٹ کا پردہ فاش کیا ہے۔ پولیس کو قابلِ اعتماد اطلاع ملی تھی جس کے بعد یہ کارروائی انجام دی گئی۔
پولیس چھاپے کے دوران سونو چکن اینڈ مٹن شاپ سے بھیڑ اور بکریوں کا خون بڑی مقدار میں جمع کیا گیا ہوا پایا گیا۔ جانچ کے دوران انکشاف ہوا کہ شاپ کے مالک سندر سونو اور اس کے ملازم اکھل جانوروں سے خون جمع کرکے اسے تقریباً 130 سے 180 پیکٹس میں محفوظ کر رہے تھے۔
ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جمع شدہ خون کو کچی گوڑہ میں واقع CNK امپورٹس اینڈ ایکسپورٹس نامی ادارے کو فروخت کیا جا رہا تھا، جہاں اسے لیبارٹریز میں استعمال ہونے والی شیپ بلڈ آگَر پلیٹس تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ سارا عمل بغیر کسی سرکاری اجازت اور طبی و ویٹرنری ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انجام دیا جا رہا تھا۔
پولیس نے اس معاملے میں مٹن شاپ کے مالک اور ایک فرضی ویٹرنری ڈاکٹر کو حراست میں لے لیا ہے۔ موقع سے جانوروں کے خون کے 180 پیکٹس ضبط کیے گئے ہیں۔ معاملے میں مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ غیرقانونی کاروبار کتنے عرصے سے جاری تھا اور اس میں مزید کون لوگ ملوث ہیں۔
بعد ازاں ملزمان کو مزید قانونی کارروائی کے لیے جی ایچ ایم سی حکام اور ویٹرنری ڈپارٹمنٹ کے حوالے کر دیا گیا۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ جانوروں کے خون کی اس طرح غیر محفوظ اور غیرقانونی ذخیرہ اندوزی عوامی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ بعض حلقوں میں یہ غلط تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ جانوروں کا خون بعض بیماریوں کے علاج میں مفید ہے، جس کے باعث اس طرح کی غیرقانونی سرگرمیاں فروغ پا رہی ہیں۔
پولیس نے واضح کیا ہے کہ جانوروں کی فلاح و بہبود اور عوامی صحت سے کھیلنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور ایسے غیرقانونی دھندوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔