تلنگانہ

اسٹامپس اینڈ رجسٹریشن کے محکمہ کو مکمل طور پر شفاف اور کرپشن سے پاک بنانے کے لئے اہم اصلاحات

وزیر موصوف نے منصوبہ کے اہم نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ان عمارات کی تعمیر تین مراحل میں ہوگی۔ پہلے مرحلہ میں آؤٹر رنگ روڈ کے حدود، دوسرے مرحلہ میں ضلعی ہیڈ کوارٹرس اور تیسرے مرحلہ میں حلقہ اسمبلی کی سطح پر یہ عمارات تعمیر کی جائیں گی۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیر ریونیو پی سرینواس ریڈی نے اعلان کیا ہے کہ حکومت اسٹامپس اینڈ رجسٹریشن کے محکمہ کو مکمل طور پر شفاف اور کرپشن سے پاک بنانے کے لئے اہم اصلاحات نافذ کر رہی ہے۔

متعلقہ خبریں
فلم ”گیم چینجر“کے اضافی شوز اور ٹکٹ قیمتوں میں اضافہ کی اجازت سے حکومت دستبردار، احکام جاری
پرجاوانی پروگرام کی تاریخ تبدیل
سلائی مشینوں کی تقسیم، اہل عیسائی خواتین سے درخواستیں مطلوب
حکومت تمام مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کیلئے پر عزم: سریدھر بابو
وزیر سیتا اکا نے بھگدڑواقعہ میں زخمی لڑکے سری تیج کی عیادت کی


ضلع میڑچل ملکاجگری کے منڈل کوکٹ پلی میں تعمیر ہونے والے انٹی گریٹڈ سب رجسٹرار آفس کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام کی سہولت کے لئے ریاست بھر میں مرحلہ وار جدید ترین سہولیات سے لیس کارپوریٹ سطح کے دفاتر تعمیر کیے جائیں گے۔


وزیر موصوف نے منصوبہ کے اہم نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ان عمارات کی تعمیر تین مراحل میں ہوگی۔ پہلے مرحلہ میں آؤٹر رنگ روڈ کے حدود، دوسرے مرحلہ میں ضلعی ہیڈ کوارٹرس اور تیسرے مرحلہ میں حلقہ اسمبلی کی سطح پر یہ عمارات تعمیر کی جائیں گی۔

پہلے مرحلہ کے تحت حیدرآباد، رنگاریڈی، میڑچل اور سنگاریڈی کے 39 سب رجسٹرار دفاتر کو 12 کلسٹرس میں تقسیم کر کے یہ عمارات بنائی جا رہی ہیں۔ وزیرموصوف نے واضح کیا کہ یہ تمام عمارات بلڈرس کے تعاون سے تعمیر کی جا رہی ہیں تاکہ حکومت پر مالی بوجھ نہ پڑے اور وہی ادارے اگلے 5 سال تک ان کی دیکھ بھال کے ذمہ دار ہوں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ گچی باؤلی میں پہلے انٹیگریٹڈ دفتر کا افتتاح 2 جون تک متوقع ہے۔ وزیر ریونیو نے زور دے کر کہا کہ حکومت رجسٹریشن کے محکمہ کو محض آمدنی کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک خدمت خلق کے مرکز کے طور پر دیکھ رہی ہے، جہاں خواتین، ماؤں اور غریبوں کے لئے تمام ضروری سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

اس کے علاوہ انہوں نے سرکاری اورمختص اراضیات پر قبضوں کو آہنی پنجہ سے روکنے کا انتباہ دیا اور یقین دلایا کہ عوامی مقصد کے لئے اراضی لیے جانے کی صورت میں غریبوں کو مناسب معاوضہ اور متبادل جگہ فراہم کی جائے گی۔