ایشیاء

عمران خان کی سائفر کیس میں درخواست ضمانت مسترد

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سائفر کیس میں عمران خان کی درخواست ضمانت پر 16 اکتوبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے آج جاری کیا گیا۔

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی سائفر کیس میں درخواست ضمانت مسترد کردی۔

متعلقہ خبریں
بشریٰ بی بی کو قید تنہائی میں رکھ کر ان کی سزا کو مزید سخت بنایا گیا: ہائیکورٹ
امریکہ کا عمران خان اور دیگر قیدیوں کی حفاظت پر اظہارِ تشویش
توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل
عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 4 اپریل کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم
خط اعتماد چرانے والوں پر غداری کا مقدمہ چلایا جائے: عمران خان

ڈان نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سائفر کیس میں عمران خان کی درخواست ضمانت پر 16 اکتوبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے آج جاری کیا گیا۔

گزشتہ سماعت پر عمران خان کے وکلا، وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) کے اسپیشل پراسیکیوٹر نے دلائل دیے تھے جنہیں سننے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے اپنے دلائل میں کہا تھا کہ قابل دست اندازی جرم پر ایف آئی آر کا اندراج بنتا ہے، وفاقی حکومت نے سیکریٹری داخلہ کو شکایت درج کرنے کی منظوری دی۔

انہوں نے کہا تھا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں 10 سال سے کم سزا والی دفعہ میں ضمانت ہو سکتی ہے لیکن 10 سال سے زائد سزا والی سیکشن لگی ہو تو وہ ناقابل ضمانت ہے۔

عدالت نے کہا تھا کہ سائفر کے ذریعے جو بھی معلومات آرہی ہیں کیا وہ آگے بڑھائی نہیں کی جا سکتیں، جس پر پراسیکیوٹر نے کہا کہ ایک کیٹگری میں آپ کر سکتے ہیں دوسری کیٹگری میں آپ نہیں کر سکتے، یہ سائفر ٹاپ سیکرٹ تھا اس سے شئیر نہیں کیا جا سکتا تھا۔

اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا تھا کہ درخواست گزار کے وکیل نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن 5 کی درست تعریف یا تشریح نہیں کی، چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر کی معلومات عوام تک پہنچائیں جس کے وہ مجاز نہیں تھے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ سائفر آنے کے رولز آف پریکٹس ہوں گے، کچھ ایس او پیز بنائے ہوں گے، اسپیشل پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ سائفر کی دو کیٹگریز ہوتی ہیں جن میں سے ایک کی کمیونی کیشن کی جا سکتی ہے مگر دوسری کیٹگری کی نہیں۔

راجا رضوان عباسی نے کہا تھا کہ یہ سائفر دوسری کیٹگری کا سیکرٹ دستاویز تھا جس کی معلومات عام نہیں کی جا سکتی تھیں۔