قومی

ہندوستان اور بنگلہ دیش نے 151 ماہی گیروں کو وطن واپس بھیجا

وزارت خارجہ نے کہا کہ بنگلہ دیشی حکام کی طرف سے حراست میں لیے گئے کل 23 ہندوستانی ماہی گیروں اور ہندوستان میں زیر حراست 128 بنگلہ دیشی ماہی گیروں کو رہا کیا گیا اور ان کے آپریشنل ماہی گیری کے جہازوں کے ساتھ ان کے متعلقہ ممالک کو واپس بھیج دیا گیا۔

نئی دہلی: ہندوستان اور بنگلہ دیش نے جمعرات کو بین الاقوامی میری ٹائم باؤنڈری لائن (آئی ایم بی ایل) کو نادانستہ طور پرعبور کرچکے ماہی گیروں کی باہمی رہائی اور وطن واپسی کا عمل مکمل کیا۔

متعلقہ خبریں
ڈھاکہ میں دوبارہ بنگلہ دیش کے سابق وزیر خارجہ کا اقتدارمیں آنے کا عزم، اقوام متحدہ کی رپورٹ کو جانبدارانہ قرار دیا
ہندوستان کے پہلے فوجی طیارہ ساز یونٹ کا افتتاح
سیف علی خان پر حملہ آور ملزم کا باپ وزارتِ خارجہ اور ہائی کمیشن سے رجوع ہوگا
نیوزی لینڈ نے پہلی مرتبہ ہندوستان میں ٹسٹ سیریز جیت لی
چمپئنز ٹرافی۔2025: پاکستان کرکٹ بورڈ کی ہندوستانی بورڈ کو خصوصی تجویز


حکام نے کہا کہ دونوں فریق اسے دیرینہ سمندری حدود کے مسائل کے انسانی حل کے طور پر دیکھتے ہیں۔


وزارت خارجہ نے کہا کہ بنگلہ دیشی حکام کی طرف سے حراست میں لیے گئے کل 23 ہندوستانی ماہی گیروں اور ہندوستان میں زیر حراست 128 بنگلہ دیشی ماہی گیروں کو رہا کیا گیا اور ان کے آپریشنل ماہی گیری کے جہازوں کے ساتھ ان کے متعلقہ ممالک کو واپس بھیج دیا گیا۔


وزارت خارجہ کے کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں کہا، "یہ تبادلہ دونوں طرف کی ماہی گیری برادریوں کے انسانی اور روزی روٹی کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ ہندوستان اپنی ماہی گیری برادری کی فلاح و بہبود اور حفاظت کے لیے پابند عہد ہے۔”


حالیہ ہفتوں میں ماہی گیروں کو ماہی گیری کی معمول کی سرگرمیوں کے دوران ایک دوسرے کے علاقائی پانیوں میں بھٹکنے کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔


حکام نے کہا کہ تبادلے کو دونوں حکومتوں کے درمیان قریبی رابطہ کاری کے ذریعے حتمی شکل دی گئی، جس میں ساحلی کمیونٹیز کے ذریعہ معاش کے خدشات کو مدنظر رکھا گیا جو چھوٹے پیمانے پر ماہی گیری پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔


اس موسم سرما میں پہلے بھی اسی طرح کے واقعات کے بعد یہ رہائی ہوئی ہے۔


حکام نے بتایا کہ ان کی حراست کے دوران ڈھاکہ میں ہندستانی ہائی کمیشن نے ہندستانی ماہی گیروں کی دیکھ بھال کی نگرانی کی اور انہیں گرم جیکٹس سمیت ضروری سامان فراہم کیا۔


خلیج بنگال میں ماہی گیروں کی سرحد پار سے گرفتاریاں ایک عام مسئلہ بنی ہوئی ہیں، جہاں ماہی گیری کے علاقوں کی ناقص حد بندی، چھوٹی کشتیوں میں بحری آلات کی کمی، اور موسمی مچھلیوں کی نقل و حرکت اکثر نادانستہ سرحدی خلاف ورزیوں کا باعث بنتی ہے۔