بنگلورو اور حیدرآباد کے مقابلے سے آئی پی ایل کا دھماکہ خیز آغاز
ہفتہ کی شب چناسوامی اسٹیڈیم میں ایک بار پھر یہی منظر دیکھنے کو ملے گا، جب دفاعی چیمپئن رائل چیلنجرز بنگلورو کا مقابلہ سن رائزرس حیدرآباد سے ہوگا۔
بنگلورو : کہا جاتا ہے کہ کرکٹ ایک ’جینٹل مین‘ یعنی شائستہ افراد کا کھیل ہے، لیکن دوسری جانب انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) ایک ایسا رنگا رنگ میلہ ہے جہاں یہی ’جینٹل مین‘ کبھی کبھار بچوں جیسا جوش و خروش دکھاتے نظر آتے ہیں۔ ہفتہ کی شب چناسوامی اسٹیڈیم میں ایک بار پھر یہی منظر دیکھنے کو ملے گا، جب دفاعی چیمپئن رائل چیلنجرز بنگلورو کا مقابلہ سن رائزرس حیدرآباد سے ہوگا۔
آر سی بی نے نئی ملکیت کے تحت ایک نئے دور کا آغاز کیا ہے۔ یہ فرنچائز، جسے وجے مالیا نے 2008 میں 450 کروڑ روپے میں خریدا تھا، گزشتہ چند برسوں میں غیر معمولی ترقی کرتے ہوئے اب 16,500 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی حامل ہو چکی ہے۔
فی الحال اس کی ملکیت آدتیہ برلا گروپ کے پاس ہے، جس میں ٹائمز آف انڈیا گروپ، بولٹ وینچرز اور بلیک اسٹون بھی شراکت دار ہیں۔ یہ معاہدہ آئی پی ایل کی بڑھتی ہوئی تجارتی اہمیت کو واضح کرتا ہے اور ٹیم سے میدان کے اندر اور باہر غیر معمولی توقعات وابستہ کرتا ہے۔
تاہم، دولت اور ٹرافیاں ماضی کی تلخ یادوں کو مکمل طور پر مٹا نہیں سکتیں۔ گزشتہ سال جب آر سی بی نے بالآخر اپنی بدقسمتی کا سلسلہ توڑتے ہوئے آئی پی ایل کا خطاب جیتا، تو جشن کا یہ موقع ایک افسوسناک سانحے میں بدل گیا۔ اسٹیڈیم کے باہر بھگدڑ مچنے سے خوشیاں ماند پڑ گئیں اور اس واقعے میں گیارہ شائقین اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ حکام کو شدید تنقید اور سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔
اس واقعے کے بعد اسٹیڈیم کے داخلی راستوں کی ازسرِ نو تعمیر کی گئی، ہجوم کو قابو میں رکھنے کے انتظامات مزید سخت کیے گئے اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے ضوابط کو بھی بہتر بنایا گیا۔ امید کی جا رہی ہے کہ ان اقدامات سے سبق سیکھا گیا ہوگا اور آئندہ شائقین بلا خوف و خطر اپنی ٹیم کی حوصلہ افزائی کر سکیں گے، جبکہ انہیں بہتر سہولیات بھی میسر آئیں گی۔
اگر میدان کی بات کی جائے تو چناسوامی اسٹیڈیم بلے بازوں کے لیے نعمت سے کم نہیں۔ یہاں کی پچ نہایت ہموار اور تیز ہے جبکہ باؤنڈریز بھی نسبتاً مختصر ہیں، جس کے باعث گیند باآسانی ہوا میں بلند ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ ٹاس کی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے، تاہم کوئی چالاک گیندباز یا جارحانہ بلے باز چند ہی اوورز میں میچ کا رخ بدل سکتا ہے۔
آر سی بی کی بیٹنگ لائن کی قیادت وراٹ کوہلی کر رہے ہیں، جو اپنی شاندار ٹائمنگ، برق رفتار فٹ ورک اور اننگز کی رفتار کو بوقتِ ضرورت بڑھانے کی صلاحیت کے باعث گیندبازوں کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔ فل سالٹ اور ٹم ڈیوڈ ابتدائی اوورز میں انتہائی تیز رفتار بیٹنگ کرتے ہیں، جبکہ رجت پاٹیدار اور وینکٹیش ائیر مڈل آرڈر کو استحکام فراہم کرتے ہیں اور دباؤ میں بہترین کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
جیتیش شرما نہ صرف وکٹ کیپنگ کے فرائض انجام دیتے ہیں بلکہ اننگز کو مؤثر انداز میں اختتام تک پہنچانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں، جبکہ کرونال پانڈیا اور روماریو شیفرڈ ایسے آل راؤنڈرز ہیں جو کسی بھی وقت میچ کا پانسہ پلٹ سکتے ہیں۔
گیندبازی کے شعبے میں یش دیال اور جوش ہیزل ووڈ کی عدم دستیابی ایک چیلنج ہوگی۔ ایسے میں بھونیشور کمار کے تجربے اور نوان تشارا و سُیَش شرما کے جوش پر اضافی ذمہ داری عائد ہوگی کہ وہ ابتدائی وکٹیں حاصل کریں اور رنز کی رفتار کو محدود رکھیں۔
دوسری جانب ایشان کشن کی قیادت میں سن رائزرس حیدرآباد جارحانہ اور غیر متوقع کھیل کے امتزاج کے ساتھ میدان میں اترے گی۔ ٹریوس ہیڈ اور ابھیشیک شرما کی اوپننگ جوڑی چند ہی اوورز میں میچ کا نقشہ بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ نمبر تین پر ہینرک کلاسن طاقت اور حکمت عملی کے حسین امتزاج کے ساتھ بیٹنگ کرتے ہیں، جبکہ لیام لیونگ اسٹون، نتیش ریڈی اور انیکیت ورما مڈل اور لوئر مڈل آرڈر میں بڑے شاٹس کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔