تلنگانہ

نیتی آیو گ کی رپورٹ پر کے ٹی آر کا اظہارِ مسرت

مرکزی حکومت کے ادارہ نیتی آیوگ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ 10سالوں کے دوران تلنگانہ میں غربت کی شرح میں زبردست کمی آئی ہے۔

حیدرآباد: مرکزی حکومت کے ادارہ نیتی آیوگ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ 10سالوں کے دوران تلنگانہ میں غربت کی شرح میں زبردست کمی آئی ہے۔

متعلقہ خبریں
نیتی آیوگ کی میٹنگ۔ 10 ریاستوں کے چیف منسٹرس کی عدم شرکت
اندرامّا مہیلا شکتی اسکیم کے تحت اقلیتی خواتین میں سلائی مشینوں کی تقسیم
کانگریس کی سیاست اقتدار نہیں، عوامی خدمت کے لیے ہے: محمد فہیم قریشی
ترجیحی شعبوں میں قرضوں کی منظوری یقینی بنائی جائے: ضلع کلکٹر ہری چندنہ داسری
پوسٹ میٹرک اسکالرشپ درخواستوں کی تاریخ میں توسیع، آخری تاریخ 31 مارچ 2026 مقرر

رپورٹ کے مطابق ملک میں سب سے کم غربت کی حامل بڑی ریاستوں میں تلنگانہ تیسرے مقام پر ہے۔ اس رپورٹ پر کارگزار صدر بی آر ایس کے ٹی راما راؤ نے مسرت کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ نیتی آیوگ کی رپورٹ، گذشتہ 10 سالوں کے دوران صدر بی آر ایس کے چندر شیکھر راؤ کی بہترین قیادت کو ظاہر کرتی ہے۔ نیتی آیوگ کی جانب سے سال2005-06 سے آج تک ملک میں ملٹی ڈائمنشنل پاورٹی کے عنوان سے رپورٹ جاری کی۔

اس رپورٹ کے مطابق آج بھی ملک بھر میں 11.28 فیصد عوام سطح غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔2013-14 میں ملک کی 29.17 فیصد آبادی سطح غربت کے نیچے زندگی بسر کرتی تھی جو2022-23 تک کم ہوتے ہوئے یہ شرح 11.28 فیصد ہوگئی ہے۔

نیتی آیوگ کے کے مطابق گزشتہ9سالوں کے دوران ملک میں غربت میں 61فیصد کمی آئی ہے۔ اس عرصہ میں جملہ24.82 کروڑ افراد کو غربت سے باہر لا یا گیا۔ رپورٹ کی خصوصیت یہ ہے کہ ملک میں اقل ترین غربت کی شرح کے حامل پہلی تین ریاستوں کا تعلق جنوبی ہندوستان سے ہے۔

مرکزی حکومت کی رپورٹ کے مطابق2013-14 میں ریاست تلنگانہ میں شرح غربت21.92 تھی جو اُس وقت قومی سطح پر شرح غربت سے کم تھی۔ ہر سو افراد میں 22افراد غربت میں زندگی بسر کررہے تھے۔اب2022-23 کی رپورٹ کے مطابق تلنگانہ میں شرح غربت میں 3.76 فیصد کمی آئی ہے۔

گذشتہ9سالوں کے دوران82.85 فیصد غربت ختم کی گئی۔ اب ہر سو افراد میں غربت کی سطح سے نیچے زندگی بسر کررہے لوگوں کی تعداد 11رہ گئی ہے۔ سب سے کم شرح غربت کیرالا 0.48 فیصد اور ٹاملناڈو 1.43 فیصد ہے تلنگانہ میں شرح غربت3.76 فیصد ہے۔