امریکہ و کینیڈا

امریکہ میں خسرے کی وبا: 4410 سے زیادہ معاملات درج، پنسلوانیا میں حالات بے قابو

امریکہ میں خسرہ کی وبا تیزی سے پھیلتی جا رہی ہے اور تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں خسرے کے 4410 سے زیادہ معاملات کی تصدیق ہو چکی ہے۔ یہ بیماری واشنگٹن ڈی سی اور 45 ریاستوں میں پھیل چکی ہے، جن میں سے 18 معاملات کا تعلق بیرون ملک سے آنے والے مسافروں سے ہے۔

واشنگٹن: امریکہ میں خسرہ کی وبا تیزی سے پھیلتی جا رہی ہے اور تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں خسرے کے 4410 سے زیادہ معاملات کی تصدیق ہو چکی ہے۔ یہ بیماری واشنگٹن ڈی سی اور 45 ریاستوں میں پھیل چکی ہے، جن میں سے 18 معاملات کا تعلق بیرون ملک سے آنے والے مسافروں سے ہے۔


خسرے کا سب سے زیادہ اثر پنسلوانیا میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں اکیلے 1200 سے زیادہ معاملات سامنے آئے ہیں اور 6 افراد کی موت ہو چکی ہے۔


ریاست میں بگڑتے حالات کے پیش نظر مقامی صحت حکام نے مرکز سے مدد طلب کی ہے۔ اس کے جواب میں بیماریوں کی روک تھام اور کنٹرول کے امریکی مرکز (سی ڈی سی) اپنے ”ایپیڈیمک ایڈ” پروگرام کے تحت پنسلوانیا میں وبائی امراض کے ماہرین کی ایک ٹیم تعینات کر رہا ہے، جو زمینی سطح پر بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے اور فوری جانچ میں مدد کرے گی۔


ماہرین اور سی ڈی سی کے اعداد و شمار کے مطابق، اس وبا کی سب سے بڑی وجہ ٹیکہ کاری میں کمی ہے۔ مجموعی معاملات میں سے تقریباً 96 فیصد مریض ایسے ہیں جنہوں نے ٹیکہ نہیں لگوایا ہے یا جن کی ٹیکہ کاری کی صورت حال واضح نہیں ہے۔

2 فیصد معاملات میں مریضوں کو ایم ایم آر ٹیکے کی صرف ایک خوراک دی گئی تھی، جبکہ دونوں خوراکیں لے چکے محض 2 فیصد افراد ہی اس بیماری کی زد میں آئے ہیں۔ اعداد و شمار سے واضح ہے کہ مکمل طور پر ٹیکہ لگوا چکے افراد میں انفیکشن کی شرح 1 فیصد سے بھی کم ہے۔ ایم ایم آر ٹیکے کی ایک خوراک خسرے سے بچاؤ میں 93 فیصد اور 2 خوراکیں 97 فیصد تک مؤثر ہوتی ہیں۔


کووڈ-19 کی وبا کے بعد سے امریکہ میں بچوں کی ٹیکہ کاری کی شرح میں مسلسل کمی درج کی گئی ہے۔ تعلیمی سال 2025-26 میں کنڈرگارٹن کے صرف 92.4 فیصد بچوں کو ایم ایم آر کا ٹیکہ لگایا گیا، جو 2019-20 کے 95.2 فیصد کے اعداد و شمار سے کافی کم ہے۔


سی ڈی سی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر ایریکا شوارٹز اور وزیر صحت رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر نے پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ خسرے سے بچاؤ کے لیے ایم ایم آر کا ٹیکہ ہی سب سے مؤثر طریقہ ہے۔ مرکزی وزیر صحت رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وفاقی حکومت پنسلوانیا کی مدد کرکے جلد ہی اس وبا پر قابو پا لے گی۔