حیدرآباد

راشن کارڈ کی تقسیم کے دوران وزیر پونم پربھاکر اور ایم ایل سی ڈی شراون میں لفظی جھڑپ(ویڈیو وائرل)

اس لفظی تصادم کے باعث تقریب کا ماحول بگڑ گیا اور مقامی افراد و عہدیداران کے درمیان بھی بے چینی پھیل گئی۔ عوام کی توقعات کے برعکس، راشن کارڈ تقسیم کا یہ فلاحی پروگرام سیاسی محاذ آرائی کا میدان بن گیا۔

حیدرآباد: راشن کارڈ کی تقسیم کے پروگرام کے دوران وزیر پونم پربھاکر اور ایم ایل سی داسوجو شراون کے درمیان زبردست لفظی جھڑپ دیکھنے کو ملی۔ یہ واقعہ حیدرآباد کے بنجارہ ہلز میں واقع بنجارہ بھون میں پیش آیا، جہاں حکومت کی جانب سے مستحقین میں راشن کارڈ تقسیم کیے جا رہے تھے۔

متعلقہ خبریں
فون ٹیپنگ کا معاملہ بی سی ریزرویشن سے توجہ ہٹانے کا ڈرامہ : کویتا
تلنگانہ میں طلبہ کیلئے سائبر سکیورٹی اور مصنوعی ذہانت کی جدید تربیتی مہم کا آغاز
رود موسیٰ کے متاثرین کے ساتھ انصاف ہوگا، وزیر پونم پربھاکر کی یقین دہانی
گولکنڈہ قلعہ کے ممنوعہ اراضی کے تحفظ کے لیے اے ایس آئی کو نمائندگی
حیدرآباد میں اسٹیٹ اساتذہ یونین تلنگانہ کی جانب سے دعوۃ الافطار تقریب کا انعقاد

پروگرام کے دوران اس وقت کشیدگی پیدا ہو گئی جب ایم ایل سی داسوجو شراون نے وزیر پربھاکر پر الزام عائد کیا کہ سابقہ حکومت کے دور میں راشن کارڈز کی تقسیم کے معاملے میں غفلت برتی گئی اور ایک بھی راشن کارڈ جاری نہیں کیا گیا۔

 اس پر داسوجو شراون نے فوراً پلٹ کر جواب دیتے ہوئے کہا کہ کے سی آر حکومت کے دور میں 6 لاکھ 47 ہزار 479 راشن کارڈز جاری کیے گئے تھے۔

اس لفظی تصادم کے باعث تقریب کا ماحول بگڑ گیا اور مقامی افراد و عہدیداران کے درمیان بھی بے چینی پھیل گئی۔ عوام کی توقعات کے برعکس، راشن کارڈ تقسیم کا یہ فلاحی پروگرام سیاسی محاذ آرائی کا میدان بن گیا۔

اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی بحث چھڑ گئی ہے اور عوام سوال کر رہے ہیں کہ کیا راشن کارڈ واقعی عوام کو دیے جا رہے ہیں یا یہ صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا ذریعہ بن چکے ہیں۔