ایک ملاقات، کئی سوالات… راہول گاندھی کے بیان کے کیا معنی؟
کانگریس قائد راہول گاندھی نے چہارشنبہ کے دن وزیراعظم مودی سے کہاکہ وہ احتجاجی طلباء کے آڑنے نہ آئیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ طلباء ملک کی آواز ہیں۔ قائد اپوزیشن لوک سبھا نے بعض طلباء بشمول کانگریس کی طلباء تنظیم این ایس یو آئی سے تعلق رکھنے والے طلباء سے ملنے کے بعد یہ ریمارکس کئے۔
نئی دہلی (پی ٹی آئی) کانگریس قائد راہول گاندھی نے چہارشنبہ کے دن وزیراعظم مودی سے کہاکہ وہ احتجاجی طلباء کے آڑنے نہ آئیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ طلباء ملک کی آواز ہیں۔ قائد اپوزیشن لوک سبھا نے بعض طلباء بشمول کانگریس کی طلباء تنظیم این ایس یو آئی سے تعلق رکھنے والے طلباء سے ملنے کے بعد یہ ریمارکس کئے۔
یہ طلباء چیف الیکشن کمشنر کے خلاف حالیہ احتجاج کے دوران زخمی ہوئے تھے۔ کانگریس قائد نے ان سے نئی دہلی میں سونیاگاندھی کے بنگلہ 10 جن پتھ پر ملاقات کی۔ انہو ں نے طلباء کو یقین دلایا کہ وزیراعظم تا پولیس کانسٹبل سبھی کے خلاف کارروائی ہوگی۔ بعض طلباء نے بتایا کہ پولیس والوں نے ان کے ساتھ غیر انسانی برتاؤ کیا۔
دوران حراست انہیں مارا پیٹا گیا۔ پولیس والوں نے انہیں گالیاں دیں اور کہاکہ احتجاج میں حصہ لینے پر سبق سکھایا جائے گا۔ کئی احتجاجیوں کو پولیس شہر سے دور ڈیٹنشن سنٹرس لے گئی۔ راہول گاندھی نے طلباء سے کہاکہ وہ پریشان نہ ہوں کیونکہ کانگریس ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے ایک طالبہ کا تعارف کراتے ہوئے یہ ہماری شیرنی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہماری پارٹی کے شیروں اور شیرنیوں نے بڑی ہمت دکھائی۔ انہوں نے کہاکہ اس لڑکی کو مارا پیٹا گیا لیکن وہ خوفزدہ نہیں ہے۔ اس کے دل میں نفرت نہیں ہے۔ کانگریس قائد نے کہاکہ مودی اور امیت شاہ جنتا کی آواز کے سامنے کھڑے ہیں۔ راہول گاندھی نے کہاکہ جیسا کہ میں نے پریس کانفرنس میں کہاتھا یہ بھارت ہے۔
امیت شاہ جی بغور دیکھیئے یہ سبھی متحد ہیں۔ کوئی مسلمان‘کوئی ہندو کوئی ذات کوئی صنف نہیں ہے۔ یہ سبھی متحد ہیں۔ یہ ہندوستان ہے۔ صرف ایک آواز ہے او روہ انڈیا کی آواز ہے۔ آپ لوگ اس احتجاج اور آواز کے سامنے کھڑے ہیں۔ میرا مشورہ ہے کہ وزیراعظم اس آواز کے سامنے نہ ٹھہریں۔
کوئی بھی ان کے سامنے نہیں ٹھہرسکتا۔ کانگریس قائد نے کہاکہ میں پیار سے پولیس سے کہنا چاہوں گا کہ میں نے ہر طالب علم سے کہاہے کہ وہ ویڈیو بنالے‘ثبوت اپنے پاس رکھے اور ہمیں بھیج دے۔ یہ سارا معاملہ جب ختم ہوجائے گا ہم انصاف دلائیں گے اور طلباء کو مارنے والوں کو چاہئے وہ وزیراعظم مودی ہوں‘امیت شاہ ہوں گیانیش کمار ہوں یا تمام کانسٹبلس ہوں سزا دلائیں گے۔
بعدازاں ہندی میں پوسٹ میں راہول گاندھی نے کہاکہ وہ دن آنے والا ہے جب ہماری جمہوریت کی آواز کو دبانے والوں پر قانون کی مار پڑے گی چاہئے وہ مودی ہو‘امیت شاہ ہو‘گیانیش کمار ہو یا عام کانسٹبل ہو۔پرامن احتجاج طلباء کاحق ہے۔ کوئی بھی ان سے یہ حق نہیں چھین سکتا۔