نلگنڈہ گریجویٹ ایم ایل سی حلقہ: کانگریس امیدوار نے انتخاب لڑنے سے معذرت کرلی
سرووتھم ریڈی کے مطابق انہیں اس وقت حیرت ہوئی جب پارٹی نے ان کا نام امیدوار کے طور پر اعلان کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے کسی سے ایم ایل سی کا ٹکٹ نہیں مانگا تھا اور وہ ایم ایل اے کی حیثیت سے انتخاب لڑنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
حیدرآباد: نلگنڈہ گریجویٹ ایم ایل سی حلقہ کے لیے کانگریس کی جانب سے رام ریڈی سرووتھم ریڈی کو امیدوار اعلان کیے جانے کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث شروع ہوگئی ہے۔ امیدوار کے طور پر اعلان کیے گئے سرووتھم ریڈی نے مبینہ طور پر کہا ہے کہ انہوں نے ایم ایل سی ٹکٹ کے لیے کسی سے درخواست نہیں کی تھی اور وہ اس انتخاب میں حصہ لینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
سرووتھم ریڈی کے مطابق انہیں اس وقت حیرت ہوئی جب پارٹی نے ان کا نام امیدوار کے طور پر اعلان کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے کسی سے ایم ایل سی کا ٹکٹ نہیں مانگا تھا اور وہ ایم ایل اے کی حیثیت سے انتخاب لڑنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
ان کے اس بیان کے بعد کانگریس کے اندر امیدوار کے انتخاب کے طریقہ کار پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ پارٹی کے بعض حلقوں میں اس بات پر حیرت کا اظہار کیا جارہا ہے کہ امیدوار کو مبینہ طور پر اعتماد میں لیے بغیر ان کا نام انتخاب کے لیے اعلان کردیا گیا۔
سیاسی حلقوں میں یہ بھی بحث جاری ہے کہ سرووتھم ریڈی کی امیدواری کے ذریعے پٹیل رمیش ریڈی کے لیے راستہ صاف کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
اعلان کردہ امیدوار کی جانب سے انتخاب لڑنے سے مبینہ طور پر انکار کیے جانے کے بعد کانگریس کے اندر صورتحال پر مزید توجہ مرکوز ہوگئی ہے۔ پارٹی کو اب امیدوار کے موقف پر وضاحت کرنا ہوگی اور آئندہ کی حکمت عملی طے کرنا ہوگی۔
دوسری جانب نلگنڈہ گریجویٹ حلقہ میں دو نشستیں ریڈی برادری کو دیے جانے کے معاملے پر بعض بی سی حلقوں میں بھی ناراضی کی اطلاعات ہیں۔ ان حلقوں کی جانب سے سیاسی نمائندگی میں زیادہ توازن کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔
ادھر کانگریس کے رہنما دانم ناگیندر کا معاملہ بھی تلنگانہ کی سیاست میں زیر بحث ہے۔ کانگریس میں شمولیت کے بعد نااہلی کی کارروائی کے نتیجے میں انہیں ایم ایل اے کی نشست سے محروم ہونا پڑا۔
دانم ناگیندر کی خالی ہوئی نشست پر ضمنی انتخاب کے معاملے میں بھی سیاسی تنازع جاری ہے۔ ناگیندر کے حامیوں کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ وجئے ریڈی کی جانب سے دائر درخواست کے بعد قانونی کارروائی کی وجہ سے انتخابی عمل آگے نہیں بڑھ سکا۔ ان الزامات پر مزید وضاحت متعلقہ فریقین کی جانب سے سامنے آنا باقی ہے۔
سرووتھم ریڈی کے حالیہ بیان کے بعد نلگنڈہ گریجویٹ ایم ایل سی حلقہ میں کانگریس کی امیدواروں کے انتخاب کی حکمت عملی ایک بار پھر سیاسی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ پارٹی قیادت اور سرووتھم ریڈی کے آئندہ موقف سے صورتحال مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔