مکان مالک اور کرایہ دار کیلئے اہم جانکاری
سب سے پہلے تو آپ یہ دیکھیں کہ آپ نے جو دکان کرایہ پر دی ہے۔ کیا اس کا کوئی کرایہ نامہ بنایا گیا ہے یا نہیں۔ تحریری طور پر کرایہ نامہ ہے یا نہیں۔ اس سلسلہ میں کوئی معاہدہ ہے یا نہیں ہے۔
سوال: میرے شوہر کے نام پر ایک دکان ہے۔ ان کے انتقال کے بعد میں نے ایک کاروباری فرد کو دکان کرایہ پر دی ہوں۔ اس دکان سے جو کرایہ آرہا ہے۔ اسی پر میرا گزر بسر ہے تاہم تقریباً چھ ماہ سے کرایہ دار دکان کا کرایہ ادا نہیں کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں مجھ کو کیا کرنا چاہئے۔
اگرمیں اس معاملہ میں عدالت سے رجوع ہوتی ہوں تو طویل عرصہ لگ سکتا ہے اور کرایہ کے لئے کافی دن تک مجھ کو انتظار کرنا پڑ سکتاہے۔مجھ کو کرایہ کی شدید ضرورت ہے کیونکہ میری روز مرہ زندگی کا دارومدار اسی دکان کے کرایہ پر منحصر ہے۔ میرے مسئلہ کی جلد از جلد یکسوئی کے لئے مجھے کیا کرنا چاہئے۔ اس سلسلہ میں قانونی مشورہ دیں تو بڑی مہربانی ہوگی۔
جواب : سب سے پہلے تو آپ یہ دیکھیں کہ آپ نے جو دکان کرایہ پر دی ہے۔ کیا اس کا کوئی کرایہ نامہ بنایا گیا ہے یا نہیں۔ تحریری طور پر کرایہ نامہ ہے یا نہیں۔ اس سلسلہ میں کوئی معاہدہ ہے یا نہیں ہے۔ اکثر ہوتا یہ ہے کہ کرایہ نامہ 11 مہینہ کا بنایا جاتا ہے تاکہ اس کو رجسٹریشن کی ضرورت نہ ہو تاہم پھر بھی آپ کے معاملہ میں اگر آپ نے دکان کرایہ پر دی ہے اور آپ کو کرایہ وصول نہیں ہو رہا ہے تو آپ ضرور قانونی طور پر اس کرایہ دار کے تخلیہ کے لئے کوشش کریں۔
ابھی مالک مکان اور کرایہ داروں کے درمیان کے تنازعات میں اتنا طویل وقت نہیں لگ رہا ہے۔ جتنا چند سال پہلےفیصلہ آنے میں طویل عرصہ لگ جاتا تھا۔ ابھی آپ کو چاہئے کہ سب سے پہلے آپ اپنے گھر کے قریب کوئی بھی وکیل سے رجوع ہوں اور اپنے کرایہ دار کے نام پر نوٹس روانہ کریں۔ نوٹس میں اس بات کی صراحت کریں کہ کتنے مہینہ کا کرایہ باقی ہے۔ کرایہ کی ادائیگی کا تقاضا کیا جائے اور ساتھ ہی ساتھ دکان خالی کرنے کے لئے بھی آپ نوٹس کے ذریعہ ان کو اطلاع دے دیجئے۔
نوٹس میں کرایہ دار کو آپ جو بھی وقت دیتے ہیں۔ وہ وقت ختم ہونے کے بعد آپ تخلیہ کے لئے ایوکشن کیس Eviction Case بھی دائر کر سکتے ہیں اور جہاں تک کرایہ کے نہ دینے کے معاملات میں فیصلہ میں تاخیر کا مسئلہ ہے۔ ابھی کچھ برسوں سے مالک مکان اور کرایہ داروں کے درمیان تنازعات کی یکسوئی کے لئے ایک نئے قانون کو نافذ کیا گیا ہے جس کے تحت آپ ایک درخواست دائر کر سکتے ہیں۔ جیسے ہی آپ تخلیہ کے لئے عدالت میں درخواست داخل کریں گے۔
اس کے ساتھ ساتھ آپ ایک اور بھی درخواست کرایہ کے بقایا جات کی وصولی کے لئے بھی دائر کر سکتے ہیں۔ آپ عدالت سے یہ بھی تقاضا کر سکتے ہیں کہ کرایہ دار جو کہ کرایہ دینے سے انکار کر تاہے۔ کرایہ ادا نہیں کرتا ہے تو پھر اس کو مقدمہ لڑنے کا بھی حق حاصل نہیں ہے اور آپ کے حق میں کرایہ دار کی بات کو سنے بغیر فیصلہ کیا جائے۔ اس طرح سے آپ کو کوشش کرنا چاہئے کہ کرایہ دار کا دکان سے تخلیہ ہو جائے۔ آپ سیول کورٹ میں ایک دعویٰ پیش کریں۔
پھر اس دعویٰ میں ضرور اپنے بقایا کرایہ کا بھی تقاضا کریں۔ آپ عدالت سے یہ بھی درخواست کریں کہ جو کرایہ طئے ہوا ہے۔ وہ کرایہ آپ کو نہیں مل رہا ہے۔ کرایہ دار، کرایہ ادا نہیں کر رہا ہے لہٰذا آپ کے حق میں فیصلہ سنا دیا جائے۔ کرایہ دار کی بات کو نہ سنا جائے کیونکہ قانون یہی کہتا ہے کہ جو کرایہ دار، کرایہ ادا نہیں کرتا ہے تو اسے اپنی بات رکھنے کا بھی موقع نہیں دیا جاسکتا ہے۔ چونکہ آپ کی دکان کرایہ پر حاصل کی گئی ہے۔
کرایہ ہی ادا نہیں کیا جا رہا ہے تو پھر کسی قسم کے حقوق کرایہ دار کو حاصل نہیں رہیں گے۔ آپ اس معاملہ میں بغیر کوئی تاخیر کئے کہ فوری طور پر اپنے گھر کے قریب کوئی بھی وکیل سے رجوع ہوں اور اپنے حق کے حصول کے لئے ضرور لڑیں۔ قانونی طور پر اپنا حق حاصل کریں۔ اپنی جائیداد کو حاصل کریں تاکہ آپ کا جو مسئلہ ہے۔ وہ جلد از جلد حل ہو سکے۔