تلنگانہ

کویتا کے کانگریس میں شامل ہونے کی خبریں بے بنیاد، ٹی پی سی سی صدر مہیش کمار گوڑ کی وضاحت

منگل کے روز حیدرآباد میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ کویتا کے کانگریس میں شامل ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی (ٹی پی سی سی) کے صدر مہیش کمار گوڑ نے واضح طور پر ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ تلنگانہ جاگروتی کی صدر کلوا کنٹلہ کویتا کانگریس پارٹی میں شامل ہونے والی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی خبریں بالکل بے بنیاد اور افواہوں پر مبنی ہیں اور اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔

منگل کے روز حیدرآباد میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ کویتا کے کانگریس میں شامل ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ انہوں نے سیاسی حلقوں میں گردش کرنے والی قیاس آرائیوں کو یکسر مسترد کر دیا۔

مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ تلنگانہ میں بھارت راشٹریہ سمیتی (بی آر ایس) پارٹی کا کوئی مستقبل نہیں ہے اور وہ ماضی میں الجھ کر رہ گئی ہے۔ ان کے مطابق حالیہ انکشافات نے بی آر ایس کی اندرونی کمزوریوں کو عوام کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کویتا کی جانب سے سابق وزیر اعلیٰ کے چندرا شیکھر راؤ کے خاندان میں مبینہ بدعنوانی سے متعلق بیانات نے دراصل کانگریس کے الزامات کی تصدیق کر دی ہے۔ ان کے بقول، کویتا کے ان بیانات سے عوام کو کے سی آر دورِ حکومت کی حقیقت سمجھ میں آ رہی ہے۔

ٹی پی سی سی صدر نے کہا کہ موجودہ وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی تلنگانہ کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دے رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دو تلگو ریاستوں کے درمیان دریائی پانی کی تقسیم کے دوران پانی کا ایک قطرہ بھی ضائع نہ ہونے دینے کے لیے حکومت پرعزم ہے۔

مہیش کمار گوڑ نے یہ بھی اعلان کیا کہ کارپوریشن چیئرمینوں کی تقرریاں اپریل میں متوقع ہیں، تاہم امیدواروں کی تعداد دستیاب عہدوں سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آنے والے بلدیاتی انتخابات کے لیے کانگریس پارٹی ایک خصوصی کمیٹی قائم کرے گی اور صرف جیتنے کی صلاحیت رکھنے والے امیدواروں کو ہی ٹکٹ دیا جائے گا۔

بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھاتیہ جنتا پارٹی بار بار مذہبی جذبات کو سیاست کے ساتھ جوڑ کر فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہے، جو جمہوریت کے لیے درست طریقہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس بھی ہندو عقائد کا احترام کرتی ہے، لیکن ووٹ حاصل کرنے کے لیے مذہب کا استعمال نہیں کرتی۔

انہوں نے سابق بی آر ایس حکومت کی جانب سے کیے گئے غیر سائنسی ضلع بندی کے فیصلوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ایسا انتظامی طرزِ عمل کہیں اور دیکھنے میں نہیں آتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی ضلعوں میں بہتری اور توازن کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا ارادہ رکھتے ہیں، تاہم کسی بھی ضلع کو ختم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

ٹی پی سی سی قیادت کے اس بیان کے بعد کویتا کے سیاسی مستقبل سے متعلق افواہوں پر بریک لگنے کی امید کی جا رہی ہے اور کانگریس پارٹی نے ایک بار پھر تلنگانہ میں اپنی سیاسی حکمتِ عملی اور طرزِ حکمرانی پر توجہ مرکوز کرنے کا اشارہ دیا ہے۔