تلنگانہ میں آئندہ 8 ماہ اہم، ال نینو کے خطرے پر ریونت ریڈی کا ہائی الرٹ
چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے خبردار کیا ہے کہ ال نینو کے اثرات اور بارش کی کمی کے باعث ریاست کو شدید موسمی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے خبردار کیا ہے کہ ال نینو کے اثرات اور بارش کی کمی کے باعث ریاست کو شدید موسمی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ 8 ماہ انتہائی اہم ہیں اور اگر وقت رہتے ضروری اقدامات نہیں کیے گئے تو مستقبل میں عوام کو سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
چیف منسٹر نے جوبلی ہلز میں اپنی رہائش گاہ پر ریاست کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا اور پینے کے پانی، آبپاشی، زراعت اور بجلی کی ممکنہ قلت سے نمٹنے کے لیے فوری اور جامع منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حالات سے نمٹنے کے لیے تمام محکموں کو ابھی سے تیاری شروع کرنی ہوگی۔
ریاست بھر میں پانی اور بجلی کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھنے کے لیے ایک خصوصی وار روم قائم کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ عوام کی شکایات اور مسائل کے حل کے لیے ٹول فری ہیلپ لائن بھی شروع کی جائے گی۔ بجلی کی دستیابی کے حوالے سے چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت ضرورت کے مطابق بجلی خریدنے کے لیے تیار ہے، تاہم بازار میں بجلی کی دستیابی محدود ہے۔ انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ بجلی کے محتاط استعمال کو فروغ دیا جائے اور فی الحال غیر ضروری طور پر زیادہ بجلی استعمال کرنے والی سرگرمیوں کو ملتوی کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے۔ بجلی کی فراہمی کے انتظامات کی نگرانی چیف منسٹر کے دفتر کے سینئر عہدیدار براہ راست کریں گے۔
دسہرہ تہوار کے بعد ریاست بھر میں پانی اور بجلی کے تحفظ کے لیے بڑے پیمانے پر عوامی بیداری مہم شروع کی جائے گی۔ اس مہم کو گاؤں کی سطح سے ریاستی سطح تک چلایا جائے گا، جس میں ٹی وی چینلوں، سنیما گھروں اور ثقافتی ٹیموں کی خدمات حاصل کی جائیں گی تاکہ عوام کو پانی اور بجلی بچانے کی اہمیت سے واقف کرایا جاسکے۔
حکومت کے مطابق، ریاست کے تقریباً 215 منڈلوں میں خشک سالی جیسی صورتحال پائی جارہی ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ریاستی اسمبلی میں مرکز سے 20 ہزار کروڑ روپے کے خصوصی پیکیج کی درخواست سے متعلق قرارداد منظور کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ دیہی علاقوں میں روزگار اور آمدنی کے تحفظ کے لیے منریگا کے تحت معمول کے مقررہ روزگار کے علاوہ مزید 50 دن کام فراہم کرنے کی بھی مرکز سے درخواست کی جارہی ہے۔
زراعت کے شعبے کو خشک سالی اور فصلوں کے نقصان سے بچانے کے لیے چیف منسٹر نے زراعت اور آبپاشی کے عہدیداروں کو ریاست بھر میں کھڑی فصلوں کی فوری جانچ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فصلوں کو کٹائی تک پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور آبپاشی کے پانی کا ایک قطرہ بھی ضائع نہ ہونے دیا جائے۔
زیر زمین پانی کی سطح میں کمی اور آبی ذخائر میں پانی کی قلت کے پیش نظر حکومت اور محکمہ زراعت نے کسانوں کو ربیع کے موسم میں زیادہ پانی استعمال کرنے والی دھان کی فصل کی کاشت سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ اس کے بجائے کم مدت میں تیار ہونے والی فصلوں، دالوں اور تیل دار اجناس کی کاشت کو ترجیح دینے کی اپیل کی گئی ہے، تاکہ پانی کی بچت کے ساتھ فصلوں کے نقصان اور کسانوں کو ہونے والے مالی خسارے سے بھی بچا جاسکے۔
کسانوں تک براہ راست معلومات پہنچانے کے لیے چیف منسٹر ریاست بھر کے ریتھو ویدیکا مراکز کے ذریعے کسانوں سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ خطاب کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ اس دوران کسانوں کو پانی کی دستیابی، ال نینو کے ممکنہ اثرات اور متبادل فصلوں کی کاشت کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں گی۔
حکومت خشک سالی کے باعث دیہی آمدنی میں ممکنہ کمی کے پیش نظر کسانوں اور غریب خاندانوں کو اضافی مدد فراہم کرنے کے اقدامات بھی کررہی ہے۔ اس سلسلے میں منریگا کے تحت اضافی روزگار کے دنوں کی فراہمی کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں، جبکہ خشک موسم کے دوران چھوٹے اور معمولی زمین رکھنے والے کسان خاندانوں کی مدد کے لیے اضافی راشن تقسیم کرنے کی تیاری بھی کی جارہی ہے۔