حیدرآباد

حیدرآباد کے بشیر باغ کراس روڈ سے رام کا مجسمہ جسے غیر قانونی طور پر نصب کیا گیا تھا   ہٹا دیا گیا۔

بھاگیہ نگر گنیش اتسو سمیتی (BGUS) کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر روی نوتھلا ششی دھر نے حال ہی میں عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ بشیر باغ کے بجائے مجوزہ نام استعمال کریں۔

حیدرآباد : دسہرہ تہوار کے موقع پر ہندو تنظیموں کی جانب سے بشیر باغ ایکس روڈز پر نصب بھگوان رام کے مجسمے کو حکام نے مبینہ طور پر ہٹا دیا ہے۔

مجسمے کی تنصیب اور بشیر باغ کا نام بدل کر **’’سری رام چوک‘‘** رکھنے کی تجویز کے باعث یہ معاملہ تنازع کا شکار ہوگیا ہے۔ بھاگیہ نگر گنیش اتسو سمیتی (BGUS) کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر روی نوتھلا ششی دھر نے حال ہی میں عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ بشیر باغ کے بجائے مجوزہ نام استعمال کریں۔

اس معاملے پر سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ مجلس بچاؤ تحریک (MBT) کے ترجمان امجد اللہ خان نے سوال اٹھایا کہ آیا یہ مجسمہ یا کٹ آؤٹ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (GHMC) کی اجازت سے نصب کیا گیا تھا یا نہیں۔ انہوں نے مقام پر مبینہ مذہبی ڈھانچے کے بارے میں بھی وضاحت طلب کی۔