مریض کی ٹانگ آوارہ کتے کےمنہ میں دیکھی گئی شملہ
اسپتال انتظامیہ نے تصدیق کی کہ یہ ٹانگ61 سالہ اتّار سنگھ ہے جو ، ضلع منڈی کا رہنے والا تھا جس اسی ماہ کے اوائل میں مذکورہ ادارے میں آپریشن کرکے ٹانگ کاٹنی پڑی تھی
شملہ: اٹل انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سپر اسپشلٹیز ایمس کے قریب پیش آئے ایک نہایت افسوسناک واقعہ نے اسپتال کے بایومیڈیکل فضلے کے انتظام اور ادارہ جاتی نگرانی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
مقامی رہائشی اس وقت حیران رہ گئے جب منگل کے روز ایک آوارہ کتا اسپتال کے مرکزی دروازے کے قریب سرجری کے ذریعے کاٹی گئی ایک شخص کی ٹانگ منہ میں دبائے گھومتا ہوا دیکھا گیا۔ عینی شاہدین کی جانب سے بنائی گئی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، جس کے بعد عوامی سطح پر شدید تشویش پائی گئی۔
سرجری کے بعد کاٹی گئی ٹانگ کو ایک انویلپ میں رکھ کر مخصوص اسٹور روم میں محفوظ کیا گیا تھا، جہاں سے اسے بایومیڈیکل باقیات کو ٹھکانے لگانے والی مجاز تنظیم کے حوالے کیا جانا تھا۔ تاہم حکام کے مطابق متعلقہ تنظیم کا کوئی نمائندہ اسے وصول کرنے نہیں آیا۔
ابتدائی جانچ سے معلوم ہوا ہے کہ 22 فروری کی رات اسپتال عملہ اسٹور روم سے ٹرالیاں منتقل کر رہا تھا اور مبینہ طور پر کمرے کا دروازہ مناسب طریقے سے بند نہیں کیا گیا۔ اگرچہ دروازہ بند تھا لیکن کنڈی نہیں لگائی گئی تھی۔ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دروازہ رات بھر غیر محفوظ رہا، جس کے باعث آوارہ کتوں کو اندر داخل ہونے کا موقع ملا۔
اگلے روز یعنی 23 فروری کو اسٹور ایریا کے قریب ایک خالی انویلپ ملا، تاہم معاملے کی سنگینی اس وقت سامنے آئی جب اگلے روز وائرل ویڈیو میں ایک آوارہ کتا انسانی عضو کو اسپتال کے گیٹ کی جانب لے جاتے ہوئے دیکھا گیا۔
شملہ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس گورو سنگھ نے تصدیق کی کہ پولیس نے واقعے کی جانچ شروع کر دی ہے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق عضو کو ایمپیوٹیشن روم میں رکھا گیا تھا لیکن کمرہ غیر محفوظ ہونے کی وجہ سے اس تک رسائی ممکن ہوئی۔ایمس چمیانہ کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے