فون ٹیپنگ کیس: سابق چیف منسٹر کے سی آر کو پوچھ تاچھ کیلئے ایس آئی ٹی نے جاری کیا نوٹس
تلنگانہ فون ٹیپنگ کیس کی جانچ کر رہی اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) نے بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے صدر اور سابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ (کے سی آر) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں جمعہ، 30 جنوری کو تفتیش کے لیے پیش ہونے کی ہدایت دی ہے۔ یہ نوٹس جمعرات، 29 جنوری کو جاری کیا گیا۔
حیدرآباد: تلنگانہ فون ٹیپنگ کیس کی جانچ کر رہی اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) نے بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے صدر اور سابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ (کے سی آر) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں جمعہ، 30 جنوری کو تفتیش کے لیے پیش ہونے کی ہدایت دی ہے۔ یہ نوٹس جمعرات، 29 جنوری کو جاری کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق، ایس آئی ٹی کے سی آر سے حیدرآباد کے جوبلی ہلز پولیس اسٹیشن کے بجائے سدی پیٹ کے ایرواولی فارم ہاؤس میں ہی پوچھ تاچھ کر سکتی ہے، جہاں وہ اس وقت قیام پذیر ہیں۔
اس سے قبل ایس آئی ٹی اس معاملے میں بی آر ایس کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ، سدی پیٹ کے ایم ایل اے ہریش راؤ اور سابق بی آر ایس رکن پارلیمنٹ جی سنتوش راؤ سے بھی پوچھ گچھ کر چکی ہے۔ تفتیشی ایجنسی ان تمام افراد کے بیانات کو فون ٹیپنگ کیس سے جوڑ کر جانچ رہی ہے۔
فون ٹیپنگ کیس میں الزام ہے کہ بی آر ایس حکومت کے دس سالہ دور اقتدار، اور خاص طور پر 2023 کے تلنگانہ اسمبلی انتخابات کے دوران، 600 سے زائد افراد کے فون غیر قانونی طور پر ٹیپ کیے گئے۔ ان میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنما، جج، صحافی، فلمی اداکار اور دیگر اہم شخصیات شامل ہیں۔ حکام کے مطابق ایک لاکھ سے زیادہ فون کالز کی مبینہ طور پر نگرانی کی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جن شخصیات کے فون ٹیپ کیے جانے کا الزام ہے، ان میں موجودہ چیف منسٹر ریونت ریڈی، بھارتیہ جنتا پارٹی، کانگریس اور حتیٰ کہ بی آر ایس کے بعض قائدین بھی شامل ہیں۔ ان انکشافات کے بعد ریاست کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔
یہ معاملہ کانگریس حکومت کے اقتدار میں آنے کے فوراً بعد منظر عام پر آیا، جس کے بعد 10 مارچ 2024 کو اس کیس میں پہلی ایف آئی آر درج کی گئی۔ کیس کے اہم ملزم، سابق تلنگانہ انٹیلیجنس چیف ٹی پربھاکر راؤ سے بھی ایس آئی ٹی پہلے ہی پوچھ گچھ کر چکی ہے۔
مزید برآں، تلنگانہ اسپیشل انٹیلیجنس بیورو کے ایک معطل ڈی ایس پی سمیت چار پولیس عہدیداروں کو مارچ 2024 سے اب تک گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے الیکٹرانک آلات سے خفیہ معلومات حذف کیں اور فون ٹیپنگ میں ملوث رہے۔ بعد ازاں عدالت نے تمام ملزمین کو ضمانت دے دی۔