حیدرآباد

نئے گرین فیلڈ ہائی وے کی تیاریاں تیز۔ حیدرآباد سے گوا کا سفر اب صرف 8 گھنٹوں میں ممکن ہوگا

مرکزی حکومت نے بھارت مالا پریوجنا کے تحت اس اہم پروجیکٹ کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد سفر کے وقت کو کم کرنا اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔ اس پروجیکٹ کے لئے اراضی کے حصول کا کام تیزی سے جاری ہے جبکہ بیلگاوی اور رائچور کے درمیان اراضی کی خریداری مکمل ہو کر سیول ورک بھی شروع ہو چکا ہے۔

حیدرآباد: حیدرآباد سے گوا جانے والے سیاحوں اور مسافروں کے لئے ایک بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے۔ اب ان دونوں شہروں کے درمیان طویل سفر کا وقت آدھا رہ جائے گا۔

متعلقہ خبریں
بین الاقوامی یومِ مادری زبان کے موقع پر ممتاز لسانی ماہرین کو اعزازات
ڈی جے ایس کے زیرِ اہتمام رمضان اجتماع اور افطارِ عام، مغل پورہ میں انعقاد
کھوئے ہوئے وقار کی بحالی کیلئے قرآن فہمی اور سیرتِ نبویؐ کا عملی مطالعہ ناگزیر: ڈاکٹر محمد قطب الدین
اندرا پریہ درشنی گورنمنٹ ڈگری کالج ، نامپلی۔ حیدرآباد میں ”عالمی یوم مادری زبان “ کا انعقاد
حضرت سیدہ کائنات فاطمۃ الزھراءؓ اصل اور نسل ہر دو لحاظ سے پاکیزہ، آپ کی سیرت خواتین امت کے لئے مشعل راہ: مولانا ڈاکٹر سید احمد غوری نقشبندی

فی الحال سڑک کے ذریعہ حیدرآباد سے گوا پہنچنے میں 15 سے 18 گھنٹے لگتے ہیں لیکن مرکز کی جانب سے تعمیر کئے جانے والے نئے گرین فیلڈ ہائی وے کی تکمیل کے بعد یہ فاصلہ صرف 8 گھنٹوں میں طے کیا جا سکے گا۔


مرکزی حکومت نے بھارت مالا پریوجنا کے تحت اس اہم پروجیکٹ کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد سفر کے وقت کو کم کرنا اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔ اس پروجیکٹ کے لئے اراضی کے حصول کا کام تیزی سے جاری ہے جبکہ بیلگاوی اور رائچور کے درمیان اراضی کی خریداری مکمل ہو کر سیول ورک بھی شروع ہو چکا ہے۔


یہ نیا ہائی وے پناجی۔بیلگاوی۔رائچور۔حیدرآباد کے راستے سے گزرے گا جسے اکنامک 10 کوریڈور کا نام دیا گیا ہے۔

فی الحال مسافر پناجی۔ہبلی۔کوپل۔رائچور اور محبوب نگر کے راستے سفر کرتے ہیں لیکن یہ نیا متبادل راستہ سفر کو انتہائی آسان بنا دے گا۔ تقریباً 12 ہزار کروڑ روپے کی لاگت سے تیار ہونے والے اس فور لین ایکسیس کنٹرولڈ روڈ کی بدولت تلنگانہ، کرناٹک اور گوا کے درمیان رابطہ مزید بہتر ہوں گے۔


حکام کے مطابق حیدرآباد اور گوا کے درمیان موجودہ فاصلہ 700 کلومیٹر ہے جو اس گرین فیلڈ ہائی وے کے بننے سے تقریباً 150 کلومیٹر کم ہو جائے گا۔

اس سے نہ صرف سیاحت کو فروغ ملے گا بلکہ مال برداری میں بھی تیزی آئے گی جس سے اس خطہ میں نئی صنعتوں کے قیام کی راہیں ہموار ہوں گی۔