قومی

ریس کورس مسجد کو انہدامی نوٹس غیر قانونی: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے دہلی کی قدیم اور تاریخی ریس کورس مسجد کو مرکزی حکومت کے ادارہ لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس (L&DO) کی جانب سے انخلاء کا نوٹس جاری کیے جانے کو غیر قانونی اور غیر دستوری قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس نوٹس کو فوری طور پر واپس لے اور مسجد کے معاملات میں غیر ضروری مداخلت سے گریز کرے۔

نئی دہلی (پریس نوٹ) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے دہلی کی قدیم اور تاریخی ریس کورس مسجد کو مرکزی حکومت کے ادارہ لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس (L&DO) کی جانب سے انخلاء کا نوٹس جاری کیے جانے کو غیر قانونی اور غیر دستوری قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس نوٹس کو فوری طور پر واپس لے اور مسجد کے معاملات میں غیر ضروری مداخلت سے گریز کرے۔

بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے اپنے بیان میں اس کارروائی پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی سطح پر بی جے پی حکومت کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے دہلی کی قدیم اور تاریخی مساجد کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اس مقصد کے لیے مختلف حیلے بہانوں کا سہارا لیا جا رہا ہے۔

ریس کورس مسجد کے معاملے میں بھی یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مسجد سرکاری زمین پر تعمیر کی گئی ہے، حالاں کہ اس کے تاریخی وجود اور قانونی حیثیت کے حق میں سرکاری ریکارڈ میں متعدد دستاویزی شواہد موجود ہیں۔ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ ریس کورس مسجد محض ایک قدیم عبادت گاہ نہیں بلکہ تاریخی اور مذہبی اعتبار سے بھی غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔ اس مسجد کا اندراج نئی دہلی میونسپل کونسل (NDMC) کی تاریخی عمارتوں کی فہرست میں موجود ہے۔

یہ وقف کے ریکارڈ میں بھی درج ہے اور 1977 میں دہلی گزٹ میں اس کا اندراج ہو چکا ہے۔ اسی طرح وزارتِ اقلیتی امور، حکومتِ ہند کی ویب سائٹ پر بھی یہ مسجد اپنی پراپرٹی شناخت کے ساتھ درج ہے۔ انگریز دورِ حکومت میں قائم ہونے والی اس مسجد کو محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے محفوظ تاریخی یادگار بھی قرار دیا گیا ہے۔

مسجد سے متصل قبرستان بھی وقف کے ریکارڈ میں شامل ہے، جب کہ مسجد کے امام کو باقاعدہ وقف بورڈ کی جانب سے تنخواہ ادا کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان تمام تاریخی اور دستاویزی شواہد کے باوجود مسجد کو سرکاری زمین پر ناجائز قبضہ قرار دینا نہایت افسوس ناک ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ حقائق کو نظرانداز کرنے کے بجائے دستیاب ریکارڈ کی روشنی میں معاملے کا جائزہ لے اور مسجد کے خلاف کارروائی سے باز رہے۔

ڈاکٹر الیاس نے مطالبہ کیا کہ مسجد میں بجلی اور پانی کی فراہمی فوری طور پر بحال کی جائے اور نمازیوں کو بلا رکاوٹ نماز ادا کرنے کی اجازت دی جائے۔بورڈ کے ترجمان نے مزید کہا کہ بی جے پی حکومتوں کے دور میں مساجد، مدارس اور دیگر مذہبی مقامات کے خلاف کارروائیوں کا بڑھتا ہوا رجحان انتہائی تشویش ناک ہے۔ مذہبی مقامات کو سیاسی مفادات کے لیے نشانہ بنانا ملک کے آئینی اصولوں، مذہبی آزادی اور باہمی احترام کے منافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وارانسی اور ایودھیا میں بھی مذہبی مقامات سے متعلق تنازعات اور انہدامی کارروائیوں نے سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ مذہبی مقامات کے تحفظ، مذہبی آزادی اور تمام مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ یکساں سلوک کو یقینی بنائے، نہ کہ ایسے اقدامات کرے جن سے فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہو۔

ڈاکٹر الیاس نے ملک کے تمام انصاف پسند اور مذہب پر یقین رکھنے والے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ مذہب کے نام پر کی جانے والی سیاست کو سمجھیں، آئین میں دی گئی مذہبی آزادی اور تمام شہریوں کے مساوی حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کریں اور ایسے سیاسی نعروں سے ہوشیار رہیں جو ملک کے بنیادی جمہوری اور آئینی اصولوں کو کمزور کرتے ہیں۔