روینہ ٹنڈن معاملہ: 48 سکنڈ کا ویڈیو جاری کرکے مسلم خواتین کو ذمہ دار قرار دینے کی کوشش
روینہ ٹنڈن نے دعویٰ کیا کہ ہجوم نے ان پر حملہ کیا۔ ان کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ روینہ کی گاڑی عمارت میں داخل ہونے کے بعد بھیڑ نے ڈرائیور سے مطالبہ کرنا شروع کر دیا کہ وہ باہر آکر ان سے بات کرے۔

نئی دہلی: بالی ووڈ اداکارہ روینہ ٹنڈن کے مبینہ روڈ اٹیک معاملہ میں ایک نئی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ ایک سینئر پولیس افسر نے وضاحت کی ہے کہ اداکارہ کی گاڑی نے خواتین کو ٹکر نہیں ماری۔ روینہ گاڑی سے نیچے اتری تو برقع پوش خواتین اور ان کے درمیان جھگڑا شروع ہوگیا ۔
اس پورے واقعہ کی ایک ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اداکارہ کی گاڑی نے کسی کو دھکا تک نہیں دیا۔ یہ سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آتے ہی مداحوں نے بھی اپنا ردعمل دینا شروع کر دیا ہے۔ تاہم 48 سکنڈ کے ویڈیو سے پہلے کیا ہو اور اس کے بعد کیا، اس بارے میں کوئی بات نہیں بتائی گئی ہے۔
اس پورے واقعہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے زون 9 کے ڈی سی پی راج تلک روشن نے کہا کہ روینہ گھر آ رہی تھی، ان کے ڈرائیور گاڑی ریورس لے رہے تھے۔ وہاں سے گزرنے والی خاتون نے اُن کے ڈرائیور پر غصہ کیا اور اسے گاڑی احتیاط سے چلانے کو کہا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ روینہ گاڑی سے باہر نکلی اور جھگڑا شروع ہوگیا۔ ہمیں کسی فریق کی طرف سے کوئی تحریری شکایت موصول نہیں ہوئی جس کی وجہ سے کوئی کیس سامنے نہیں آیا اور اس جھگڑے میں کسی کو کوئی چوٹ نہیں آئی۔
روینہ ٹنڈن نے دعویٰ کیا کہ ہجوم نے ان پر حملہ کیا۔ ان کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ روینہ کی گاڑی عمارت میں داخل ہونے کے بعد بھیڑ نے ڈرائیور سے مطالبہ کرنا شروع کر دیا کہ وہ باہر آکر ان سے بات کرے۔ جب حالات خراب ہوئے تو روینہ نے مداخلت کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران وہ معمولی زخمی ہو گئیں۔
اس سے قبل مقامی افراد اور اداکارہ کے درمیان جھگڑے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ ویڈیو میں مقامی لوگوں نے روینہ اور اس کے ڈرائیور پر ایک بزرگ خاتون سمیت تین خواتین پر مبینہ طور پر حملہ کرنے کا الزام لگایا۔