گولکنڈہ قلعہ کے ممنوعہ اراضی کے تحفظ کے لیے اے ایس آئی کو نمائندگی
وفد نے خاص طور پر فتح دروازہ کے قریب خندق سے متصل ممنوعہ اراضی اور موتی دروازہ سے ملحقہ زمین کے علاوہ گولکنڈہ قلعہ کے اطراف موجود دیگر اے ایس آئی کے زیرِ تحفظ علاقوں کی نشاندہی کی جہاں لینڈ مافیاز کی جانب سے غیر قانونی قبضوں اور تعمیرات کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔
حیدرآباد: کانگریس قائد و انچارج حلقہ اسمبلی کاروان جناب عثمان بن محمد الھاجری کی قیادت میں کانگریس پارٹی کے سینئر قائدین نے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (ASI) کے عہدیداروں سے ملاقات کرتے ہوئے گولکنڈہ قلعہ کے اطراف موجود ممنوعہ اور ریگولیٹڈ اراضی کے تحفظ کے لیے ایک تفصیلی نمائندگی پیش کی۔
اس موقع پر وفد نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اے ایس آئی مسٹر ایچ آر دیسائی اور کنزرویشن آفیسر گولکنڈہ فورٹ مسٹر ملیش سے ملاقات کرتے ہوئے گولکنڈہ قلعہ کے اطراف آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے زیرِ نگرانی اراضی پر بڑھتی ہوئی غیر قانونی قبضوں اور غیر مجاز تعمیرات کے بارے میں سخت تشویش کا اظہار کیا۔
وفد نے خاص طور پر فتح دروازہ کے قریب خندق سے متصل ممنوعہ اراضی اور موتی دروازہ سے ملحقہ زمین کے علاوہ گولکنڈہ قلعہ کے اطراف موجود دیگر اے ایس آئی کے زیرِ تحفظ علاقوں کی نشاندہی کی جہاں لینڈ مافیاز کی جانب سے غیر قانونی قبضوں اور تعمیرات کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔
قائدین نے اس بات پر زور دیا کہ گولکنڈہ قلعہ ایک قومی اہمیت کا حامل تاریخی ورثہ ہے جو Ancient Monuments and Archaeological Sites and Remains Act, 1958 (AMASR Act) کے تحت محفوظ ہے۔ اس قانون کے مطابق قلعہ کے 100 میٹر کے اندر کسی بھی قسم کی تعمیر مکمل طور پر ممنوع ہے جبکہ اس کے بعد 200 میٹر کے ریگولیٹڈ زون میں تعمیرات کے لیے مجاز اتھارٹی کی اجازت لازمی ہے۔
عثمان بن محمد الھاجری نے اے ایس آئی حکام کو بتایا کہ ان کے علاوہ کئی سماجی کارکنان اور باشعور شہری ماضی میں بھی گولکنڈہ قلعہ کی ممنوعہ اراضی کے تحفظ کے لیے متعدد مرتبہ نمائندگیاں پیش کر چکے ہیں، مگر اس کے باوجود لینڈ گرابرس کے خلاف اب تک کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی جس کی وجہ سے غیر قانونی قبضوں کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس طرح کی غیر قانونی سرگرمیاں جاری رہیں تو اس سے نہ صرف گولکنڈہ قلعہ کے تاریخی تشخص کو نقصان پہنچے گا بلکہ ایسے وقت میں ریاستی حکومت کی ساکھ کو بھی متاثر کرے گا جب کہ وزیر اعلیٰ تلنگانہ جناب ریونت ریڈی ریاست بھر میں سرکاری اراضی کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کر رہے ہیں۔
اس نمائندگی کے ذریعے وفد نے اے ایس آئی حکام سے مطالبہ کیا کہ گولکنڈہ قلعہ کے اطراف ممنوعہ اور ریگولیٹڈ علاقوں کا فوری سروے کیا جائے، غیر قانونی قبضوں کو ہٹایا جائے اور AMASR ایکٹ کے تحت لینڈ گرابرس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
اس موقع پر موجود کانگریس کے سینئر قائدین میں
سی ایچ شنکر، اکولا چندر شیکھر، چنتی بابو، سنتوش چاری، ارون کمار، محمد حبیب، الیاس خان، علی بن عثمان الھاجری، ناگولاپلی سری کانتھ اور سنتوش گوڑ کے علاوہ دیگر قائدین اور کارکنان بھی موجود تھے۔