تلنگانہ SIR میں 73 لاکھ ووٹ حذف ہونے کے معاملے پر وزراء اور ارکان اسمبلی پر ریونت ریڈی کی ناراضگی، چار دن حلقوں میں رہنے کی ہدایت
تلنگانہ کے چیف منسٹر اور ٹی پی سی سی صدر اے ریونت ریڈی نے ریاست میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے دوران ووٹوں کے حذف ہونے کے معاملے پر وزراء اور ارکان اسمبلی سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں آئندہ چار دن اپنے اپنے حلقوں میں رہنے کی ہدایت دی ہے۔
حیدرآباد: تلنگانہ کے چیف منسٹر اور ٹی پی سی سی صدر اے ریونت ریڈی نے ریاست میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے دوران ووٹوں کے حذف ہونے کے معاملے پر وزراء اور ارکان اسمبلی سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں آئندہ چار دن اپنے اپنے حلقوں میں رہنے کی ہدایت دی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ٹی پی سی سی کی جانب سے منعقدہ زوم میٹنگ میں ریونت ریڈی نے کہا کہ ریاست میں تقریباً 21 فیصد یعنی لگ بھگ 73 لاکھ ووٹ حذف ہونے کا خدشہ ہے اور اس صورتحال کے لیے حلقہ وار انچارج وزراء اور ارکان اسمبلی کے مبینہ لاپرواہ رویے کو ذمہ دار قرار دیا۔
ریونت ریڈی نے سوال کیا کہ اگر وزراء اور ارکان اسمبلی حیدرآباد میں بیٹھ کر صرف جائزہ لینے کی بات کریں گے تو زمینی سطح پر صورتحال کا کیسے اندازہ ہوگا۔ انہوں نے وزراء اور ارکان اسمبلی کو ہدایت دی کہ وہ اپنے اپنے حلقوں کا دورہ کریں اور ووٹر لسٹوں کی جانچ کے عمل کی براہ راست نگرانی کریں۔
چیف منسٹر نے مبینہ طور پر ہدایت دی کہ وزراء اور ارکان اسمبلی آئندہ چار دن اپنے حلقوں میں قیام کرتے ہوئے ووٹر لسٹ سے متعلق مسائل کا جائزہ لیں اور اہل ووٹروں کے نام حذف ہونے سے روکنے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔
ریونت ریڈی کے ان ریمارکس پر سیاسی حلقوں میں بحث شروع ہوگئی ہے۔ ناقدین کا الزام ہے کہ چیف منسٹر مستقبل میں حکومت کے اقتدار میں واپس نہ آنے کی صورت میں اس کی ذمہ داری وزراء اور ارکان اسمبلی پر ڈالنے کی تیاری کررہے ہیں۔
دوسری جانب تلنگانہ کانگریس امور کی انچارج مناکشی نٹراجن نے بھی ریاست میں ووٹوں کے حذف کیے جانے کے معاملے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں جتنی بڑی تعداد میں ووٹ حذف کیے جارہے ہیں، اتنے ووٹ کسی اور ریاست میں حذف نہیں کیے گئے۔
مناکشی نٹراجن نے تقریباً 73 لاکھ ووٹ حذف ہونے اور مزید 64 لاکھ ووٹوں کو مشتبہ قرار دیے جانے کو تشویشناک اور افسوسناک قرار دیا۔
ریاست میں SIR کا عمل اس وقت ایک اہم سیاسی مسئلہ بن چکا ہے۔ کانگریس قیادت نے وزراء، ارکان اسمبلی اور پارٹی کارکنوں پر زور دیا ہے کہ وہ ووٹر تصدیق اور اندراج کے عمل پر گہری نظر رکھیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی اہل ووٹر کا نام انتخابی فہرست سے خارج نہ ہو۔
SIR عمل میں ووٹوں کے حذف اور مشتبہ ووٹروں کی نشاندہی کے معاملے پر آنے والے دنوں میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔