اُجین میں شاہی مسجد کا حصہ ہٹانے کی کارروائی، مسلمانوں کا احتجاج، پولیس نے آنسو گیس کا کیا استعمال
اجین میں سنگھستھ 2028 کی تیاریوں کے تحت سڑک چوڑی کرنے کے معاملے پر کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔ کنٹھال چوراہے سے گوپال مندر تک سڑک کی توسیع کا کام جاری ہے، جس کی زد میں شاہی مسجد کا کچھ حصہ بھی آ رہا ہے۔ میونسپل کارپوریشن کی ٹیم نے پیر کی صبح مسجد کے مذکورہ حصے کو ہٹانے کی کارروائی شروع کی، جس کے خلاف مقامی مسلم برادری نے احتجاج کیا۔
بھوپال: اجین میں سنگھستھ 2028 کی تیاریوں کے تحت سڑک چوڑی کرنے کے معاملے پر کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔ کنٹھال چوراہے سے گوپال مندر تک سڑک کی توسیع کا کام جاری ہے، جس کی زد میں شاہی مسجد کا کچھ حصہ بھی آ رہا ہے۔ میونسپل کارپوریشن کی ٹیم نے پیر کی صبح مسجد کے مذکورہ حصے کو ہٹانے کی کارروائی شروع کی، جس کے خلاف مقامی مسلم برادری نے احتجاج کیا۔
مسجد کا حصہ ہٹائے جانے کے خلاف گزشتہ دو دن سے احتجاج جاری تھا۔ اتوار کی رات جے سی بی اور پوکلین مشینوں کے ساتھ بھاری پولیس فورس موقع پر پہنچی تو بڑی تعداد میں لوگ سڑک پر جمع ہوگئے۔ دیر رات تک احتجاج جاری رہا۔
پیر کی صبح ایک بار پھر بڑی تعداد میں لوگ موقع پر جمع ہوگئے۔ اسی دوران پتھراؤ کی اطلاع سامنے آئی، جس کے بعد پولیس نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے اور بھیڑ کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔
پتھراؤ اور احتجاج کے دوران قانون و نظم کی ڈیوٹی پر تعینات خاتون ٹی آئی پشپا پانچال کے ہاتھ میں چوٹ لگنے کی بھی اطلاع ہے۔
اجین کے ٹنکی چوراہے پر بھی بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے، جہاں پتھراؤ کی اطلاع ملی۔ بتایا جا رہا ہے کہ احتجاج کے دوران کچھ افراد نے مسجد کے احاطے میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
صورتحال کے پیش نظر شاہی مسجد اور اس کے آس پاس کے علاقے میں بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب مسجد کا حصہ ہٹانے کے خلاف مسلم خواتین نے اجین کے ناکہ نمبر پانچ پر چکہ جام کیا۔ بڑی تعداد میں خواتین سڑک پر بیٹھ گئیں، جس کے باعث شہر میں ٹریفک بھی متاثر ہوا۔ پولیس اہلکار موقع پر پہنچے اور احتجاج ختم کرانے کے ساتھ ساتھ ٹریفک کو معمول پر لانے کی کوشش کی۔
فی الحال علاقے میں کشیدگی کے پیش نظر سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ انتظامیہ اور پولیس صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔