سنبھل تشدد، ظفر علی کی عبوری درخواست ضمانت مسترد
ایک مقامی عدالت نے جمعرات کے روز سنبھل کی شاہی جامع مسجد کے صدر ظفر علی کی عبوری درخواست ِ ضمانت مسترد کردی اور ان کی باقاعدہ درخواست ضمانت کی سماعت 2 اپریل کو مقرر کی۔

سنبھل (یوپی) (پی ٹی آئی) ایک مقامی عدالت نے جمعرات کے روز سنبھل کی شاہی جامع مسجد کے صدر ظفر علی کی عبوری درخواست ِ ضمانت مسترد کردی اور ان کی باقاعدہ درخواست ضمانت کی سماعت 2 اپریل کو مقرر کی۔
عہدیداروں نے یہ بات بتائی۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج II نربھئے نارائن رائے نے عبوری درخواست ِ ضمانت کی سماعت کی اور اسے مسترد کردیا۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کونسل ہری اوم پرکاش سینی نے یہ بات بتائی۔
انہوں نے کہا کہ مقدمہ کی سماعت کے دوران علی کے وکیل نے عبوری ضمانت کے لئے دلائل پیش کئے لیکن استغاثہ نے ان کی مخالفت کی اور علی کے خلاف سنگین الزامات کا حوالہ دیا جن میں ہجوم کو اکٹھا کرنا‘ تشدد بھڑکانا‘ سرکاری جائیدادوں کو نقصان پہنچانا اور حقائق کو توڑمروڑ کر پیش کرنا شامل ہیں۔
ان دلائل کی بنیاد پر عدالت نے عبوری ضمانت منظور کرنے سے انکار کردیا اور باقاعدہ درخواست ِ ضمانت کی سماعت 2 اپریل کو مقرر کی۔ واضح رہے کہ ظفر علی کو 24 نومبر کے تشدد کے سلسلہ میں 23 مارچ کو پوچھ تاچھ کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔
مغلیہ دور کی مسجد کے عدالت کے حکم پر سروے کے دوران تشدد کا واقعہ پیش آیا تھا۔ 23 مارچ کو ہی چندوسی کی ایک عدالت نے علی کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی اور انہیں 2 روزہ عدالتی تحویل میں مرادآباد جیل بھیج دیا تھا۔ علی نے اپنے خلاف الزامات کی تردید کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ انہیں پھنسایا گیا ہے۔
علی کے بڑے بھائی طاہر علی نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے ان کے بھائی کو جان بوجھ کر جیل بھیج دیا ہے تاکہ عدالتی پیانل ان کی گواہی کو قلمبند نہ کرسکے۔ حکومت اترپردیش نے تشدد کی تحقیقات کے لئے ایک پیانل تشکیل دیا ہے جس میں 4 افراد ہلاک اور دیگر کئی زخمی ہوگئے تھے۔ ایک درخواست میں یہ دعویٰ کئے جانے کے بعد کہ اُس مقام پر جہاں فی الحال سنبھل کی شاہی جامع مسجد ہے‘ ایک قدیم ہندو مندر تھا‘ یہ مسجد تنازعہ کا شکار ہوگئی ہے۔