آندھراپردیش

تلگودیشم کے سینئر لیڈر وسابق وزیر جی سوریا نارائنا چل بسے

اتوار کے روز سریکاکولم کے ارساولی میں واقع اپنی رہائش گاہ پر وہ اچانک پھسل کر گر گئے تھے جس کے باعث ان کے سر پر شدیدزخم آئے تھے۔ انہیں فوری طور پر ایک پرائیویٹ اسپتال منتقل کیا گیا جہاں حالت تشویشناک ہونے کی بنا پر انہیں آئی سی یو میں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تاہم علاج کے دوران ان کی موت ہوگئی۔

حیدرآباد: تلگو دیشم پارٹی کے قد آور لیڈر وسابق ریاستی وزیر جی سوریا نارائنا کل شام چل بسے۔

متعلقہ خبریں
دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج کامیاب زندگی کی ضمانت ہے، وزیرِ اقلیتی بہبود و قانون کا جامعۃ المؤمنات میں خطاب
سعودی شہزادہ منصور بن بدر انتقال کرگئے
ٹی ڈی پی کے قائدین گھروں پر نظر بند
بچوں کے سامنے ہوم گارڈ کا خاتون کے ساتھ ’مجرا‘ — ویڈیو وائرل ہونے کےبعد محکمہ نے فوراً ڈیوٹی سے ہٹا دیا
اےپی کے وجیانگرم میں نو بیاہتا جوڑا مشتبہ حالات میں مردہ پایاگیا


اتوار کے روز سریکاکولم کے ارساولی میں واقع اپنی رہائش گاہ پر وہ اچانک پھسل کر گر گئے تھے جس کے باعث ان کے سر پر شدیدزخم آئے تھے۔ انہیں فوری طور پر ایک پرائیویٹ اسپتال منتقل کیا گیا جہاں حالت تشویشناک ہونے کی بنا پر انہیں آئی سی یو میں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تاہم علاج کے دوران ان کی موت ہوگئی۔


سوریا نارائنا کی سیاست کا آغاز ایک کونسلر کے طور پر ہوا تھا جس کے بعد وہ اپنی محنت اور دیانتداری کی بدولت میونسپل وائس چیئرمین، رکن اسمبلی اور پھر وزیر کے عہدے تک پہنچے۔

وہ 1985 سے مسلسل چار بار سریکاکولم حلقہ سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے اور 1989 میں این ٹی راما راؤ کی کابینہ میں بطور وزیر خدمات انجام دیں۔ انہیں ایک نڈر اور اصول پسند سیاستدان کے طور پر جانا جاتا تھا۔


ان کی اہلیہ لکشمی دیوی بھی 2014 میں سریکاکولم سے رکن اسمبلی منتخب ہوئی تھیں۔ 1985 سے 2019 تک اس حلقہ میں ان کے خاندان کا سیاسی دبدبہ رہا۔ ان کے پسماندگان میں اہلیہ اور دو بیٹے ہیں۔ ان کی موت پر پارٹی قائدین اور سیاسی شخصیات نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔