تلنگانہ

سکندرآباد مدراس رجمنٹ اسلحہ چوری کیس میں سنسنی خیز انکشافات

سکندرآباد کی مدراس رجمنٹ سے فوجی ہتھیاروں کی چوری کے معاملے میں پولیس کی جانب سے کی گئی تحقیقات کے دوران اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ پولیس نے 10 روزہ تحویل کے دوران ملزم ملیش سے پوچھ گچھ کرکے چوری کی منصوبہ بندی اور مبینہ غیر قانونی اسلحہ نیٹ ورک سے متعلق معلومات حاصل کی ہیں۔

حیدرآباد: سکندرآباد کی مدراس رجمنٹ سے فوجی ہتھیاروں کی چوری کے معاملے میں پولیس کی جانب سے کی گئی تحقیقات کے دوران اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ پولیس نے 10 روزہ تحویل کے دوران ملزم ملیش سے پوچھ گچھ کرکے چوری کی منصوبہ بندی اور مبینہ غیر قانونی اسلحہ نیٹ ورک سے متعلق معلومات حاصل کی ہیں۔

تحقیقات کے مطابق ملیش نے ویب سیریز اور بینکوں و سونے کی دکانوں میں ڈکیتیوں سے متعلق ویڈیوز دیکھنے کے بعد فوجی ہتھیار چوری کرنے کا منصوبہ تیار کیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ اس نے چوری کے طریقہ کار کا باقاعدہ خاکہ بھی تیار کیا تھا۔

ملیش نے 2009 میں فوج میں شمولیت اختیار کی تھی اور جن مختلف چھاؤنیوں میں اس کی تعیناتی ہوئی، وہاں اس نے اسلحہ خانے سے متعلق ذمہ داریاں انجام دیں۔ پولیس کے مطابق فرائض میں مبینہ غفلت کے باعث اسے سینئر افسران کی جانب سے متعدد مرتبہ تادیبی کارروائی کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ملیش کا تعلق مبینہ طور پر پرانے چوری کے مقدمات سے رہا ہے۔ پولیس کے مطابق 2007 میں امرآباد اور اچم پیٹ علاقوں میں درج مکان چوری کے مقدمات میں بھی اس کا نام سامنے آیا تھا۔

پولیس کے مطابق 2022 میں کولکاتا کے بیرک پور میں ملیش کی ملاقات مبینہ غیر قانونی اسلحہ فروش اَوال ڈے عرف O.B. سے ہوئی۔ اسے بِربل شاہ نامی شخص کے ذریعے اَوال ڈے سے متعارف کرایا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر ملیش نے مبینہ طور پر 10 ہزار روپے میں ایک پستول خریدا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ 2025 میں مالی مشکلات کے دوران ملیش نے پہلی مرتبہ فوجی ہتھیار چوری کرنے کا منصوبہ بنایا۔ بعد ازاں جولائی 2026 میں اس نے مدراس رجمنٹ کے اطراف متعدد مرتبہ جائزہ لیا اور وہاں نصب سی سی کیمروں، برقی روشنی اور فوجی اہلکاروں کی نقل و حرکت کا مشاہدہ کیا۔

تحقیقات کے مطابق ملیش نے سیشو، پروین اور ونود کی مدد سے چوری کا منصوبہ تیار کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے کیمروں، روشنی کے انتظام اور فوجی اہلکاروں کی نقل و حرکت کو مدنظر رکھتے ہوئے مبینہ طور پر منصوبہ بندی کی۔

پولیس کے مطابق چوری کیے گئے ہتھیاروں کو ایکٹیوا اور بریزا گاڑیوں کے ذریعے منتقل کیا گیا اور بعد میں انہیں ناگرکرنول میں واقع ملیش کے گھر میں چھپایا گیا۔

تحقیقات میں مبینہ طور پر یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ہتھیاروں کو فروخت کرنے کے لیے کولکاتا کے بِربل شاہ کے ذریعے اَوال ڈے سے رابطہ کیا گیا تھا۔

پولیس کو شبہ ہے کہ بِربل شاہ کے ایسے افراد سے روابط ہیں جو بنگلہ دیش سے کولکاتا کا سفر کرتے ہیں۔ تفتیشی حکام کے مطابق بِربل شاہ اور اَوال ڈے عرف O.B. کا تعلق مبینہ طور پر ایک وسیع غیر قانونی اسلحہ نیٹ ورک سے ہوسکتا ہے جو ملک کے مختلف حصوں تک پھیلا ہوا ہے۔

پولیس نے بِربل شاہ اور اَوال ڈے کی تلاش شروع کردی ہے اور اس معاملے میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔ حکام اس مبینہ نیٹ ورک سے وابستہ دیگر افراد اور چوری شدہ فوجی ہتھیاروں کی نقل و حرکت کے بارے میں بھی معلومات جمع کر رہے ہیں۔