سونیا گاندھی کا انسٹاگرام پر باقاعدہ آغاز، یادداشتوں پر مبنی کتاب’بیلانگنگ‘ کی پہلی جھلک شیئر کی
کانگریس پارلیمانی پارٹی (سی پی پی) کی چیئرپرسن سونیا گاندھی نے جمعرات کو انسٹاگرام پر شامل ہو کر سوشل میڈیا کی دنیا میں باقاعدہ قدم رکھ دیا اور اپنی آنے والی کتاب ’بیلانگنگ: اے جرنی آف لو‘ کے متعلق پہلی پوسٹ شیئر کی۔
نئی دہلی (آئی اے این ایس) کانگریس پارلیمانی پارٹی (سی پی پی) کی چیئرپرسن سونیا گاندھی نے جمعرات کو انسٹاگرام پر شامل ہو کر سوشل میڈیا کی دنیا میں باقاعدہ قدم رکھ دیا اور اپنی آنے والی کتاب ’بیلانگنگ: اے جرنی آف لو‘ کے متعلق پہلی پوسٹ شیئر کی۔
گاندھی کی یادداشتوں پر مشتمل یہ کتاب 10 نومبر کو دنیا بھر میں باضابطہ طور پر جاری کی جائے گی۔ سونیا گاندھی نے اپنی پہلی انسٹاگرام پوسٹ میں کتاب کا سرورق اور پہلی جھلک شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ”سب کو سلام، میں یہ لمحہ آپ سب کے ساتھ شیئر کرتے ہوئے دل سے مسرت اور شکر گزاری محسوس کر رہی ہوں۔
یہ ’بلانگنگ: اے جرنی آف لو‘ کی پہلی جھلک ہے۔ یہ محبت، فرض، نقصان اور اپنی شناخت و وابستگی کی تلاش کی ایک کہانی ہے۔ میں اسے آپ کے ساتھ شیئر کرنے کی منتظر ہوں۔“ انسٹاگرام پر جاری کردہ ویڈیو میں سونیا گاندھی کو اپنی کتاب کے پہلے نسخے وصول کرتے اور اپنی صاحبزادی و کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا کے ساتھ مٹھائیاں تقسیم کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
اس دوران دونوں قائدین ایک دوسرے سے گلے ملتے بھی نظر آئیں۔ سی پی پی چیئرپرسن کا اب تک سوشل میڈیا پر کوئی باقاعدہ اکاؤنٹ نہیں تھا۔ ان کے اب 10,700 سے زائد فالوورز ہو چکے ہیں جبکہ وہ خود اپنے بچوں راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کے علاوہ انڈین نیشنل کانگریس کے آفیشل ہینڈل کو فالو کر رہی ہیں۔
یہ کتاب باقاعدہ طور پر 10 نومبر کو منظر عام پر آئے گی جبکہ اس کے لیے پیشگی آرڈرز (پری آرڈرز) کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ عالمی سطح پر اس کتاب کی اشاعت الفریڈ اے کناف کے ذریعے کی جا رہی ہے جبکہ ہندوستان میں اس کی اشاعت کے انتظامات ہارپر کولنز انڈیا سنبھال رہا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں ہارپر کولنز انڈیا نے کہا کہ وہ سونیا گاندھی کی کتاب ‘بلانگنگ: اے جرنی آف لو’ شائع کرے گا۔ اشاعتی ادارے نے بتایا کہ ”سونیا گاندھی کی یہ طویل عرصے سے منتظر سوانحی کتاب ہندوستان میں 10 نومبر 2026 کو شائع کی جائے گی۔“ ادارے نے مزید کہا کہ ”ہمارے دور کی انتہائی متوقع سیاسی یادداشتوں میں سے ایک، ‘بلانگنگ’ محبت، شناخت، فرض اور احساسِ تعلق کی ایک پرتاثیر اور انتہائی ذاتی داستان ہے جو ہندوستان کے سفر پر ایک نایاب اور اندرونی نگاہ ڈالتی ہے۔“
اس سے قبل ایسی خبریں منظر عام پر آئی تھیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پینگوئن انڈیا نے مبینہ اداریاتی تبدیلیوں کے تنازعہ پر کانگریس کی سینئر قائد کی کتاب شائع کرنے سے انکار کر دیا ہے، تاہم بعد میں ناشر کی جانب سے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کر دی گئی۔ پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا نے ایک وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ”وہ ہندوستان میں ‘بلانگنگ’ کے پبلشر نہیں ہیں۔“
ادارے نے واضح کیا کہ ”یہ تجویز کہ پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا نے اس لیے کتاب شائع نہ کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ مصنف نے اداریاتی ترامیم مسترد کر دی تھیں، زمینی صورتحال اور حقائق کی درست عکاسی نہیں کرتی۔“ بیان میں مزید کہا گیا کہ بطور پبلشر حقائق کی جانچ کرنا اور مصنفین کو ایسی تجاویز دینا جو کتاب کے بہترین مفاد میں ہوں، ہمارا استحقاق اور بنیادی ذمہ داری دونوں ہے۔
یہ اشاعتی عمل کا ایک معمول کا حصہ ہے۔ تمام متعلقہ گفتگو کے دوران پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا کا موقف یہی تھا کہ ہم کتاب شائع کرنے کے لیے تیار اور پرعزم ہیں۔ ادارے نے یہ بھی واضح کیا کہ ”ہم مصنف کے ساتھ ہونے والی خفیہ گفتگو پر مزید کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔“