سورارم میں آوارہ کتوں کا قہر، پانچ سالہ بچہ حملے میں زخمی
حیدرآباد کے سورارم علاقے میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ایک بار پھر تشویش کا باعث بن گئی ہے، جہاں شری رام نگر کالونی میں آوارہ کتوں کے حملے میں ایک پانچ سالہ طالب علم شدید زخمی ہو گیا۔
حیدرآباد کے سورارم علاقے میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ایک بار پھر تشویش کا باعث بن گئی ہے، جہاں شری رام نگر کالونی میں آوارہ کتوں کے حملے میں ایک پانچ سالہ طالب علم شدید زخمی ہو گیا۔ اس واقعے کے بعد مقامی افراد میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور شہریوں نے بلدیاتی حکام کی مبینہ لاپرواہی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق اتوار کی صبح سورارم کالونی میں واقع شری رام نگر سے تعلق رکھنے والا پانچ سالہ ابھیلاش، جو ایل کے جی کا طالب علم ہے، گھر سے باہر نکلا ہی تھا کہ اچانک آوارہ کتوں کے جھنڈ نے اس پر حملہ کر دیا۔ بچوں کی چیخ و پکار سن کر مقامی لوگ موقع پر پہنچے اور کسی طرح بچے کو کتوں سے بچایا۔ اس حملے میں بچے کو مختلف مقامات پر زخم آئے۔
واقعے کے فوراً بعد زخمی بچے کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ابتدائی علاج کے بعد بتایا کہ بچے کی حالت مستحکم ہے اور اس کا علاج جاری ہے۔ والدین نے بتایا کہ کالونی میں بچوں کا اکیلے باہر نکلنا اب خطرناک ہو چکا ہے اور ہر وقت خوف کا ماحول بنا ہوا ہے۔
مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ سورارم کے قطب اللہ پور زون اور سائی بابا نگر ڈویژن کے تحت آنے والی اس کالونی میں گزشتہ کئی دنوں سے آوارہ کتوں کا مسئلہ شدت اختیار کر چکا ہے۔ گلیوں میں جھنڈ کی شکل میں گھومتے آوارہ کتے بچوں اور بزرگوں پر حملے کر رہے ہیں، جس کے باعث لوگ گھروں سے باہر نکلنے سے بھی گھبرا رہے ہیں۔
علاقہ مکینوں نے الزام لگایا کہ آوارہ کتوں کو قابو میں کرنے کیلئے بلدیاتی محکمہ اور اینیمل ٹریکر عملہ مسلسل لاپرواہی برت رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے کئی بار شکایات درج کروائیں، لیکن نہ تو کتوں کو پکڑنے کیلئے کوئی مؤثر کارروائی کی گئی اور نہ ہی مسئلہ حل کرنے میں سنجیدگی دکھائی گئی۔
مقامی لوگوں نے یہ بھی شکایت کی کہ کالونی میں گندگی، کچرے کے ڈھیر اور اُبلتی نالیوں کی صفائی نہ ہونے کے باعث آوارہ کتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو رہا ہے، جس سے صورتحال دن بہ دن خطرناک بنتی جا رہی ہے۔
واقعے کے بعد والدین اور کالونی کے مکینوں نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن سے فوری اور سخت اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں نے اپیل کی ہے کہ آوارہ کتوں کو فوری طور پر پکڑا جائے، باقاعدہ مانیٹرنگ کی جائے اور بچوں و بزرگوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جائے، تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔