حیدرآباد

،،یس آر گارڈن نلگنڈہ میں تحفظِ عقائد کانفرنس اور اسناد و انعامات کی تقسیم،،

موجودہ دور میں سوشل میڈیا، جھوٹی خبروں اور اشتعال انگیز بیانات کے ذریعے عقائد کو نقصان پہنچانے کی کوششیں بڑھ گئی ہیں۔ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ حکومت، سماجی ادارے، تعلیمی نظام اور مذہبی رہنما مل کر تحفظِ عقائد کو یقینی بنائیں

 حیدرآباد :  جمعیت علماء  شعبہ اصلاحِ معاشرہ کے تحت دینی اسلامی مذہبی معلوماتی کوئز کے زیرِ اہتمام ایک عظیم الشان اجلاس بعنوان “تحفظِ عقائد اہلِ سنت والجماعت” بمقام یس آر گارڈن  نلگنڈہ میں منعقد ہوا، اس موقع پر دینی اسلامی مذہبی معلوماتی کوئز میں کامیاب طلبہ و طالبات میں اسناد و انعامات بھی تقسیم کیے گئے۔

متعلقہ خبریں
پیس اینڈ ایجوکیشنل  سوسائٹی کا جلسہ تقسیم انعامات، مولانا سمیع اللہ خان اور مولانا جعفر پاشاہ کا خطاب
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
جمعہ کی نماز اسلام کی اجتماعیت کا عظیم الشان اظہار ہے: مولانا حافظ پیر شبیر احمد
راہِ دین کا داعی، عابد، مجاہد، فیاض اور جری انسان: فاضل بیابانی مرحوم
بے روزگار نوجوانوں کیلئے ڈی ای ای ٹی ایک مؤثر ڈیجیٹل پلیٹ فارم: اقلیتی بہبود آفیسر آر۔ اندرا

اس اجلاس کی صدارت استاذالاساتذہ، پیرِ طریقت حضرت شاہ سید احسان الدین قاسمی میں دامت برکاتہم (صدر جمعیت علماء تلنگانہ و ناظم دارالعلوم نلگنڈہ) نے فرمائی، جبکہ مہمانان خصوصی محترم مفتی سید تجمل حسین قاسمی دامت برکاتہم (استادِ حدیث دارالعلوم حیدرآباد و ناظم شعبہ اصلاحِ معاشرہ جمعیت علماء تلنگانہ) وحافظ پیر خلیق احمد صابر جنرل سکرٹری جمعیت علمإ تلنگانہ تھے۔اپنے خطابات میں مقررین نے معاشرے کی اصلاح، ایمان کی حفاظت اور نئی نسل کی دینی تربیت پر زور دیا،

تحفظِ عقائد ہر معاشرے کے لیے نہایت اہم اور بنیادی ضرورت ہے۔ عقیدہ انسان کے ایمان، فکر اور کردار کی بنیاد ہوتا ہے اسلام میں عقیدے کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، کیونکہ ایمان کے بغیر کوئی عمل قابلِ قبول نہیں۔ اسی طرح اسلام دوسروں کے عقائد کے احترام کا بھی حکم دیتا ہے اور زبردستی، توہین یا نفرت پھیلانے سے سختی سے روکتا ہے۔

موجودہ دور میں سوشل میڈیا، جھوٹی خبروں اور اشتعال انگیز بیانات کے ذریعے عقائد کو نقصان پہنچانے کی کوششیں بڑھ گئی ہیں۔ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ حکومت، سماجی ادارے، تعلیمی نظام اور مذہبی رہنما مل کر تحفظِ عقائد کو یقینی بنائیں۔ قانون کے ذریعے نفرت انگیز تقاریر اور مذہبی توہین کو روکنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

تحفظِ عقائد صرف قانون سے ممکن نہیں بلکہ شعور، تعلیم اور اخلاقی تربیت بھی اس میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ نوجوان نسل کو برداشت، مکالمے اور پرامن بقائے باہمی کا درس دینا چاہیے تاکہ وہ اختلافِ رائے کو نفرت میں تبدیل نہ کریں۔

تحفظِ عقائد نہ صرف مذہبی فریضہ ہے بلکہ ایک پرامن، مہذب اور متحد معاشرے کی ضمانت بھی ہے۔ جب ہر فرد کے عقائد محفوظ ہوں گے تو سماج ترقی اور استحکام کی راہ پر گامزن ہوگا۔

 صدر جلسہ مولانا سید شاہ احسان الدین قاسمی نےاپنے صدارتی خطاب میں  کہا کہ اسلامی اصولوں پر عمل اور قرآن و سنت کی روشنی میں زندگی گزارنے سے ہی قوم کی فلاح و کامیابی ممکن ہے۔ نماز سے غفلت، نشہ، جوا، موبائل کے غلط استعمال، فضول خرچی اور بے حیائی جیسے معاشرتی امراض پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان سے بچنے کی تلقین کی گئی۔

اور انھوں نے کہا کہ ایمان اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے، اور موجودہ دور میں اس کی حفاظت سب سے اہم ذمہ داری ہے۔ انہوں نے والدین کو اپنی اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دینے کی نصیحت کی اور گھریلو ماحول کو اسلامی بنانے پر زور دیا۔

اس موقع پر جمعیت العلماء نلگنڈہ کے زیرِ اہتمام منعقدہ دینی مذہبی معلوماتی کوئز امتحان کے نتائج کا اعلان کیا گیا، واضح ہو کہ ایک ہزار سے زائد طلبہ نے امتحان میں حصہ لیا تھا تین فروعات میں کامیاب طلبہ کو اول، دوم، سوم اور اعزازی انعامات تقسیم کیے گئے۔ اس امتحان کا مقصد بچوں میں دینی شعور، عقائد کی حفاظت اور اسلامی رجحان کو فروغ دینا تھا۔

پروگرام کے روحِ رواں حافظ سید فرقان سیکریٹری جمعیت علماء  اور کنوینر مولانا عبدالسمیع رشیدی مولانا عبد المقیت ناظم شعبہ اصلاح معاشرہ جمعیتہ العلماء ضلع نلگنڈہ کی خدمات کو خصوصی طور پر سراہا گیا۔ اس کے علاوہ  مفتی سید صدیق مظاہری مولانا ضیاء الدین مظاہری مولانا اکبر خان مولانا عبد الحکیم مولانا اسماعیل شریف مولانا عبد الستار ، حافظ ساجد، حافظ مشتاق، فیصل، مفتی صہیب،مفتی عمر حافظ سمیع اللہ،  مولانا احمد، حافظ عبدالاحد ، حافظ زعیم ، حافظ خمیس ، مولانا عبد الکریم عادل ، مولانا ضیاء الدین رشادی حافظ عتیق الرحمن،

حافظ شمس الدین محمد ابراھیم محمد سجاد خان حافظ نواز مولانا ثمیر انصاری حافظ سرفراز اللہ خان اور دیگر معاونین کی کوششوں کو بھی قابل تحسین داد  پیش کیا گیا۔

آخر میں تمام کارکنان و معاونین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کے حق میں دعائیں کی گئیں اور آئندہ بھی دینی و اصلاحی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔واضح رھےکہ

پروگرام کی کاروائی مولانا زبیر محی الدین ناظم جمعیتہ العلماء ضلع نلگنڈہ نے چلائی۔۔۔۔۔