تقسیم کی باتیں جموں کے مفاد میں نہیں: عمر عبداللہ
بی جے پی رہنماؤں پر شدید تنقید کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ جو لوگ دربار موو کو بند کرتے ہیں یا میڈیکل کالج کے خاتمے پر خوشی مناتے ہیں، وہ جموں کے خیرخواہ نہیں ہو سکتے۔
جموں: جموں وکشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کو واضح اور سخت لہجے میں کہا کہ جب تک نیشنل کانفرنس کا ہل بردار سرخ پرچم جموں و کشمیر کے ہر خطے میں لہراتا رہے گا، تب تک کوئی طاقت خطے کو مذہبی یا علاقائی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی ہمت نہیں کر سکتا۔
عمر عبداللہ جموں میں پارٹی بلاک صدور کے دو روزہ کنونشن کے اختتامی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے، جس کی صدارت پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی عوام دوست پالیسیوں سے جموں کا اعتماد بحال ہوا ہے اور ترقی کی رفتار تیز ہوئی ہے۔
وزیراعلیٰ نے اپنی حکومت کے اہم اقدامات گنواتے ہوئے کہا کہ جموں کے عوام کو زیادہ راشن کوٹہ، خواتین کے لیے مفت بس سروس، پنشن میں اضافہ، لینڈ سلائیڈ سے متاثرہ افراد کو مفت اراضی کی فراہمی اور تاریخی دربار موو کی بحالی جیسے اقدامات نے خطے کے لوگوں کی عملی مدد کی ہے۔ ان کے مطابق سیاحت، سڑکوں، صحت، تعلیم اور بھرتیوں کے شعبوں میں جامع اقدامات کے نتیجے میں جموں ایک بار پھر ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
بی جے پی رہنماؤں پر شدید تنقید کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ جو لوگ دربار موو کو بند کرتے ہیں یا میڈیکل کالج کے خاتمے پر خوشی مناتے ہیں، وہ جموں کے خیرخواہ نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی تنگ نظر سیاست نے ماضی میں بھی خطے کو نقصان پہنچایا ہے اور مستقبل میں بھی اس کے تباہ کن اثرات ہو سکتے ہیں، جبکہ نیشنل کانفرنس ایسی تقسیم کاری کی سیاست کبھی برداشت نہیں کرے گی۔
اپوزیشن لیڈر سنیل شرما کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے عمر نے کہا کہ تقسیم کی بات ذاتی اقتدار کی خواہش کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا: ’اگر ان کی خواہش وزیراعلیٰ بننے کی ہے تو پھر صرف جموں کیوں، پورا جموں و کشمیر کیوں نہیں؟ اگر اتنی ہی آرزو ہے تو پہلے جموں میونسپل کارپوریشن کے انتخابات لڑ کر دکھائیں۔‘
عمر عبداللہ نے کہا کہ بی جے پی کا خواب صرف کنک منڈی اور رگھوناتھ بازار تک ہی محدود رہے گا کیونکہ چناب ویلی اور پیر پنجال کے لوگ کبھی بھی تفرقی سیاست کا حصہ نہیں بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی خواہش پر مبنی سیاست نہ صرف خطرناک ہے بلکہ جموں کے مفادات کے سراسر خلاف ہے، اور نیشنل کانفرنس ایسے کسی ایجنڈے کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے ہمیشہ خطے کے سیکولر تشخص کی حفاظت کی ہے اور کشمیری عوام نے پاکستان کے مسلسل دباؤ اور پروپیگنڈے کے باوجود ایک سیکولر بھارت کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا تھا، جو ان کی مضبوط وابستگی کی علامت ہے۔