تلنگانہ

تلنگانہ: کسان کھاد کے لیے قطاروں میں شب بسری کے لیے مجبور

کسانوں نے قطار میں اپنی جگہ پکی کرنے کے لیے چپلیں، تھیلے اور دیگر سامان چھوڑ دیا جبکہ کئی کسانوں نے فرش پر بستر بچھا لیے۔ بعض کسان اپنے بچوں کو بھی ساتھ لانے پر مجبور ہوئے کیونکہ گھر پر ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہ تھا۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے مختلف اضلاع میں کھاد کے لیے طویل قطاروں میں کھڑے ہونے کے بعد اب کسانوں نے قطار ہی میں شب بسری شروع کر دی ہے۔

متعلقہ خبریں
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
حیدرآباد کی سرزمین اپنی گنگا جمنی تہذیب کے باعث صدیوں سے محبت، رواداری اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال رہی ہے، اور آج بھی یہ خوبصورت روایت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔
گولکنڈہ قلعہ کے ممنوعہ اراضی کے تحفظ کے لیے اے ایس آئی کو نمائندگی
ٹولی چوکی میں جلسہ یومُ الفرقان کا انعقاد
وزیر اعلیٰ تلنگانہ نے تلنگانہ قانون ساز کونسل کے نئے ہال کا افتتاح کیا۔ خواتین کو عالمی دن کی مبارکباد

یہ واقعہ سدی پیٹ ضلع کے دوباک میں پیش آیا، جہاں اتوار کی رات کھانے کے بعد کسانوں کو اطلاع ملی کہ پرائمری ایگریکلچرل کوآپریٹو سوسائٹی میں یوریا کا نیا ذخیرہ پہنچا ہے۔

اطلاع ملتے ہی کسان بڑی تعداد میں وہاں پہنچ گئے اور رات بھر وہیں رک گئے۔


کسانوں نے قطار میں اپنی جگہ پکی کرنے کے لیے چپلیں، تھیلے اور دیگر سامان چھوڑ دیا جبکہ کئی کسانوں نے فرش پر بستر بچھا لیے۔ بعض کسان اپنے بچوں کو بھی ساتھ لانے پر مجبور ہوئے کیونکہ گھر پر ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہ تھا۔


یہ منظر صرف دوباک تک محدود نہیں بلکہ متحدہ میدک ضلع کے کئی علاقوں میں بھی یہی صورتحال رہی، جہاں کسان صبح سویرے پانچ بجے سے ہی کھاد مراکز پر قطاروں میں کھڑے دکھائی دیے۔

کسانوں نے شکایت کی کہ حکومت ان کی مشکلات کو نظرانداز کر رہی ہے اور کھاد کے بحران کو حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے۔