تلنگانہ

تلنگانہ میں ماہی پروری محکمہ پر 133 کروڑ روپے ضائع کرنے کا الزام، خشک تالابوں میں مچھلی کے بیج چھوڑنے کی تیاری

تلنگانہ کے محکمہ ماہی پروری کو مچھلی کے بیج تقسیم کرنے کے پروگرام کے سلسلے میں شدید تنقید کا سامنا ہے۔ الزام ہے کہ ریاست کے کئی تالابوں میں پانی نہ ہونے کے باوجود مچھلی کے بیج چھوڑنے کی تیاری کی جارہی ہے، جس سے سرکاری خزانے کے 133 کروڑ روپے ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے محکمہ ماہی پروری کو مچھلی کے بیج تقسیم کرنے کے پروگرام کے سلسلے میں شدید تنقید کا سامنا ہے۔ الزام ہے کہ ریاست کے کئی تالابوں میں پانی نہ ہونے کے باوجود مچھلی کے بیج چھوڑنے کی تیاری کی جارہی ہے، جس سے سرکاری خزانے کے 133 کروڑ روپے ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔

اطلاعات کے مطابق، ریاست کے 17,677 تالابوں میں سے تقریباً 13,000 تالاب خشک ہوچکے ہیں۔ اس کے باوجود محکمہ ماہی پروری کی جانب سے مچھلی کے بیج تقسیم کرنے کے منصوبے پر پیش رفت کیے جانے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

معیاری ضوابط کے مطابق، تالابوں میں مچھلی کے بیج اسی وقت چھوڑے جانے چاہئیں جب ان میں پانی کی سطح گنجائش کے کم از کم 50 فیصد تک پہنچ جائے اور چھ ماہ تک برقرار رہنے کی توقع ہو۔ اس شرط کا مقصد مچھلیوں کی بقا اور افزائش کو یقینی بنانا ہے تاکہ ماہی گیروں کو فائدہ پہنچ سکے۔

تاہم، اس مرتبہ پانی کی مطلوبہ سطح کے معیار میں تبدیلی کی اطلاعات نے تنازع کو مزید بڑھا دیا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ محکمہ کے عہدیداروں نے 50 فیصد پانی کی شرط کو کم کرکے 33 فیصد کردیا ہے۔ اس تبدیلی پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں اور الزام لگایا جارہا ہے کہ ٹھیکیداروں کے دباؤ میں یہ فیصلہ کیا گیا۔ تاہم، اس الزام کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

ماہی گیروں نے اس منصوبے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے سوال کیا کہ جب ہزاروں تالاب خشک ہیں تو مچھلی کے بیجوں کی تقسیم پر 133 کروڑ روپے خرچ کرنے کا کیا جواز ہے؟ ان کا کہنا ہے کہ پانی کی مناسب مقدار کے بغیر مچھلی کے بیج چھوڑنے سے نہ صرف سرکاری رقم ضائع ہوسکتی ہے بلکہ ماہی گیروں کو بھی نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے۔

اس معاملے نے محکمہ کی منصوبہ بندی، نگرانی اور سرکاری فنڈز کے استعمال پر بھی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ ماہی گیر مطالبہ کررہے ہیں کہ مچھلی کے بیج تقسیم کرنے سے پہلے تمام تالابوں میں پانی کی سطح کا جائزہ لیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ سرکاری رقم کا استعمال مؤثر انداز میں ہو۔

محکمہ ماہی پروری کی جانب سے ان الزامات، پانی کی سطح سے متعلق ضوابط میں تبدیلی اور مجوزہ تقسیم کے بارے میں باضابطہ وضاحت سامنے آنے کا انتظار ہے۔