چیوتا پنشن میں 500 روپے اضافہ پرتلنگانہ حکومت کا غور
تلنگانہ حکومت معمر افراد،بیواؤں، معذوروں اور دیگر ضرورت مند طبقات کو مالی سہارا دینے کے لئے جاری چیوتا اسکیم کے تحت پنشن کی رقم میں اضافہ پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کی قیادت میں حکومت انتخابات کے دوران کئے گئے وعدوں کو مرحلہ وار پورا کرنے کی حکمت عملی اپنا رہی ہے۔
حیدرآباد: تلنگانہ حکومت معمر افراد،بیواؤں، معذوروں اور دیگر ضرورت مند طبقات کو مالی سہارا دینے کے لئے جاری چیوتا اسکیم کے تحت پنشن کی رقم میں اضافہ پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کی قیادت میں حکومت انتخابات کے دوران کئے گئے وعدوں کو مرحلہ وار پورا کرنے کی حکمت عملی اپنا رہی ہے۔
ریاست کی مالی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے ابتدائی طور پر موجودہ پنشن کی رقم میں 500روپئے کا اضافہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اگر اس تجویز پر عمل درآمد ہوتا ہے تو ضعیف افراد، بیواؤں، بیڑی کارکنوں اور ایڈس کے مریضوں کی موجودہ پنشن 2016روپیے سے بڑھ کر2516روپئے ہوجائے گی۔
معذور افراد کو ملنے والی رقم 4016روپے سے بڑھ کر 4516روپے تک پہنچ جائے گی۔
محکمہ فینانس کے اعداد و شمار کے مطابق، پنشن میں محض 500 روپے کے اس اضافہ سے سرکاری خزانہ پر سالانہ تقریباً 2500کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔
فی الوقت حکومت پنشن کی تقسیم پر ماہانہ 950 کروڑ روپے خرچ کر رہی ہے۔ حکومت کا ہدف ہے کہ اگلے انتخابات تک پنشن کی اس رقم کو بتدریج 4,000 سے 6,000 روپے کی سطح تک لے جایا جائے جس کے لئے بجٹ میں بڑے پیمانہ پر فنڈس مختص کرنے ہوں گے۔
بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دور میں 500 روپے کا یہ اضافہ غریب طبقات کے لئے کسی حد تک راحت ثابت ہوگا تاہم کسانوں اور غریب عوام کی نظریں اس بات پر لگی ہیں کہ حکومت اپنا مکمل انتخابی وعدہ (4,000 روپے پنشن) کب تک پورا کرے گی۔