تلنگانہ

تلنگانہ حکومت نے نئے شہر ‘فیوچر سٹی’ کے قیام کیلئے نیا ادارہ قائم کیا

اتھارٹی کے کمشنر کو ممبر سکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت حیدرآباد کے آوٹر رنگ روڈ کے باہر کے علاقوں، خاص طور پر سری سیلم نیشنل ہائی وے اور ناگرجنا ساگر اسٹیٹ ہائی وے کے درمیان موجود علاقوں کو ''فیوچر سٹی'' کا حصہ بنایا جائے گا۔ یہ علاقہ 765.28 مربع کلومیٹر پر محیط ہوگا۔

حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے ریاست میں ایک نئے شہر ”فیوچر سٹی” کے قیام کے لئے ایک نیا ادارہ قائم کیا ہے جسے ”فیوچر سٹی ڈیولپمنٹ اتھارٹی ” کا نام دیا گیا ہے۔ اس اتھارٹی کا مقصد رنگا ریڈی ضلع کے سات منڈلوں کے 56 ریونیو گاؤں پر مشتمل علاقہ کو جدید شہری ترقی کے مرکز میں تبدیل کرنا ہے۔

متعلقہ خبریں
نمائش سوسائٹی تعلیم و ثقافت کے فروغ میں سرگرم، عظیم الشان سنجیدہ و مزاحیہ مشاعرہ منعقد
اندرامّا مہیلا شکتی اسکیم کے تحت اقلیتی خواتین میں سلائی مشینوں کی تقسیم
فلم ”گیم چینجر“کے اضافی شوز اور ٹکٹ قیمتوں میں اضافہ کی اجازت سے حکومت دستبردار، احکام جاری
مولانا سیداحمد پاشاہ قادری کا سانحہ ارتحال ملت کے لئے نقصان عظیم; مولانا عرفان اللہ شاہ نوری اور مولانا قاضی اسد ثنائی کا تعزیتی بیان
کانگریس کی سیاست اقتدار نہیں، عوامی خدمت کے لیے ہے: محمد فہیم قریشی

اس اتھارٹی کی صدارت وزیراعلی کریں گے، جبکہ محکمہ بلدی نظم و نسق و شہری ترقی، صنعت، آئی ٹی اور کامرس کے وزیر نائب صدر ہوں گے۔ ریاست کی چیف سکریٹری،محکمہ فائنانس کے خصوصی پرنسپل سیکریٹری، صنعت و آئی ٹی کے خصوصی پرنسپل سکریٹری،بلدی نظم و نسق کے خصوصی چیف سکریٹری،محکمہ ماحولیات و جنگلات کے پرنسپل سکریٹری،ایچ ایم ڈی اے کمشنر، ٹی جی آئی آئی سی منیجنگ ڈائریکٹر، رنگا ریڈی ضلع کلکٹر اور حیدرآباد ڈی ٹی سی پی اس اتھارٹی کے ارکان میں شامل ہوں گے۔

اتھارٹی کے کمشنر کو ممبر سکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت حیدرآباد کے آوٹر رنگ روڈ کے باہر کے علاقوں، خاص طور پر سری سیلم نیشنل ہائی وے اور ناگرجنا ساگر اسٹیٹ ہائی وے کے درمیان موجود علاقوں کو ”فیوچر سٹی” کا حصہ بنایا جائے گا۔ یہ علاقہ 765.28 مربع کلومیٹر پر محیط ہوگا۔

”فیوچر سٹی” میں ایئرپورٹ، صنعتی زونس، بنیادی سہولتیں اور کارپوریٹ سیکٹر کی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے گا تاکہ یہ علاقہ ریاست کا اہم تجارتی و ترقیاتی مرکز بن سکے۔ اس منصوبے کے تحت 36 ایسے گاؤں جو پہلے ایچ ایم ڈی اے کے دائرے میں آتے تھے، انہیں فیوچر سٹی ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں منتقل کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کو سرکاری طور پر باضابطہ شکل دینے کے لئے حکومت نے گزٹ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا ہے۔