تلنگانہ

تلنگانہ کے بلدی انتخابات: بی جے پی توقع کے مطابق نتائج حاصل کرنے میں ناکام

116 بلدیات اور 7 کارپوریشنوں کے اس معرکہ میں بی جے پی کی پوری طاقت کریم نگر اور نظام آباد کارپوریشنوں کے گرد گھومتی رہی لیکن دیہی علاقوں میں موجود سات بی جے پی ایم ایل ایز اپنی طاقت دکھانے میں ناکام رہے اور ایک بھی بلدیہ براہ راست اپنے نام نہ کر سکے۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے بلدی انتخابات میں بڑی امیدوں کے ساتھ میدان میں اترنے والی بی جے پی توقع کے مطابق نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ ریاست میں پارٹی کے 8 ارکان پارلیمنٹ اور 8 ارکان اسمبلی ہونے کے باوجود وہ بلدی سطح پر ووٹرس کا دل جیتنے میں پیچھے رہ گئی۔

متعلقہ خبریں
مرکزی وزیرکشن ریڈی کا دورہ سعودی عرب
ریاستوں اور زمینوں کی تقسیم  سے دل  تقسیم نہین ہوتے۔
انوار العلوم کالج کے فارغین کی ملک و بیرون ممالک منفرد واعلی خدمات – لڑکیاں تعلیم کے میدان میں مزید آگے بڑھیں
اندرامّا مہیلا شکتی اسکیم کے تحت اقلیتی خواتین میں سلائی مشینوں کی تقسیم
کانگریس کی سیاست اقتدار نہیں، عوامی خدمت کے لیے ہے: محمد فہیم قریشی

116 بلدیات اور 7 کارپوریشنوں کے اس معرکہ میں بی جے پی کی پوری طاقت کریم نگر اور نظام آباد کارپوریشنوں کے گرد گھومتی رہی لیکن دیہی علاقوں میں موجود سات بی جے پی ایم ایل ایز اپنی طاقت دکھانے میں ناکام رہے اور ایک بھی بلدیہ براہ راست اپنے نام نہ کر سکے۔

اگرچہ پارٹی نے قومی قائدین کو بھی انتخابی مہم میں اتارا جس سے پارٹی میں جوش و خروش تو پیدا ہوا لیکن نتائج میں اس کا عکس نظر نہیں آیا۔ 49 بلدیات اور دو کارپوریشنوں میں تو بی جے پی ایک بھی وارڈ یا ڈویژن جیتنے میں ناکام رہی۔


مرکزی وزیر بنڈی سنجے کے حلقہ اثر کریم نگر کارپوریشن میں بی جے پی نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا جہاں 66 میں سے 30 ڈویژنوں پر جیت حاصل کی۔ میئر کی کرسی کے قریب پہنچنے پر چار آزاد امیدواروں نے بھی بی جے پی میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔

اسی طرح نظام آباد کارپوریشن میں ایم پی دھرم پوری اروند کی محنت سے بی جے پی 60 میں سے 28 نشستیں جیت کر سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے، تاہم جادوئی ہندسہ (31) سے تین قدم دور رہ گئی۔ عادل آباد بلدیہ میں بھی بی جے پی 21 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی بن گئی ہے اور اسے چیئرمین کی کرسی حاصل کرنے کے لئے مزید 4 ارکان کی حمایت درکار ہے۔

نارائن پیٹ میں بھی بی جے پی کو اکثریت کے لیے محض ایک رکن کی ضرورت ہے۔ محبوب نگر کے ایم پی ڈی کے ارونا کے علاقہ میں پارٹی محض 10 نشستوں تک محدود رہی جبکہ آرمور، سر پور اور مدھول میں پارٹی کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی۔ بی جے پی قیادت اب ان آزاد امیدواروں کو متحد رکھنے کی کوشش کر رہی ہے جو چیئرمین کے عہدوں کے لئے فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔