تلنگانہ

تلنگانہ میں بلدی انتخابات۔ پنچایتی جنگ کے بعد اب شہروں میں سیاسی دنگل کی تیاریاں

وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی 16 جنوری سے مختلف بلدیات کا دورہ کر کے انتخابی مہم کا آغاز کریں گے

حیدرآباد : تلنگانہ میں سیاسی سرگرمیاں دیہاتوں سے نکل کر اب شہروں اور قصبوں تک پہنچ چکی ہیں۔ پنچایت انتخابات کے کامیاب انعقاد کے بعد اب تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے شہری ووٹروں کو اپنی جانب راغب کرنے محاذ سنبھال لیا ہے۔

متعلقہ خبریں
سابق امریکی صدر پر فائرنگ: حملہ آور کی ​​تفصیلات کا سلسلہ جاری
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
بے روزگار نوجوانوں کیلئے ڈی ای ای ٹی ایک مؤثر ڈیجیٹل پلیٹ فارم: اقلیتی بہبود آفیسر آر۔ اندرا
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا
جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے میں 77واں یومِ جمہوریہ شان و شوکت سے منایا گیا

 اقتدار پر قابض کانگریس، اپوزیشن جماعت بھارت راشٹرا سمیتی اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے میونسپل انتخابات کے لئے اپنی بساط بچھانی شروع کر دی ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ بازگشت عام ہے کہ اسٹیٹ الیکشن کمیشن فروری کے مہینے میں ہی بلدی انتخابات کے لئے شیڈول جاری کر سکتا ہے جس کے پیش نظر پارٹیوں نے اپنی انتخابی مہم تیز کر دی ہے۔

وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی 16 جنوری سے مختلف بلدیات کا دورہ کر کے انتخابی مہم کا آغاز کریں گے۔ کانگریس قیادت کا ماننا ہے کہ پنچایت انتخابات کی جیت نے ان کے لئے کوارٹر فائنل کی راہ ہموار کر دی ہے اور اب وہ میونسپل انتخابات کی صورت میں سیمی فائنل جیتنے کے لیے پرعزم ہیں۔

دوسری طرف، بی آر ایس کے کارگزار صدر کے ٹی راما راؤ نے پہلے ہی ضلعی سطح کے اجلاسوں کے ذریعہ اپنے کیڈر کو متحرک کر دیا ہے۔ بی آر ایس کا دعویٰ ہے کہ حالیہ پنچایت انتخابات کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام میں موجودہ حکومت کے خلاف ناراضگی بڑھ رہی ہے۔

بی جے پی نے بھی شہری علاقوں میں اپنی گرفت مضبوط کرنے حکمت عملی تیار کی ہے جہاں 2,996 وارڈس کی میپنگ کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔ ریاست کی 117 بلدیات اور 6 کارپوریشنوں میں پھیلے ہوئے 52 لاکھ سے زائد ووٹرس اس بار فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔

تلنگانہ حکومت نے وارڈس اور چیئرپرسن کے عہدوں کے لئے تحفظات کی فہرست تیار کر لی ہے جو کسی بھی وقت الیکشن کمیشن کو روانہ کر دی جائے گی۔ اس سیاسی گہما گہمی سے واضح ہے کہ ریاست میں اقتدار اور اپوزیشن کے درمیان ایک بڑامقابلہ ہونے والا ہے جو مستقبل کی سیاست کا رخ متعین کرے گا