تلنگانہ

تلنگانہ کو تنازعات نہیں، پانی چاہیے: وزیرِ اعلیٰ ریونت ریڈی کا ہمسایہ ریاستوں سے بات چیت پر زور

وزیرِ اعلیٰ یہ باتیں رنگا ریڈی ضلع کے مہیشورم منڈل کے راویریال ای-سٹی میں سُوزن میڈیکیئر کے آئی وی فلوئڈز مینوفیکچرنگ یونٹ کے افتتاح کے موقع پر ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔

وزیرِ اعلیٰ تلنگانہ اے۔ ریونت ریڈی نے واضح کیا ہے کہ ریاستی حکومت دریا کے پانی کے معاملے میں ہمسایہ ریاستوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے تنازعات نہیں چاہتی، بلکہ گفت و شنید اور باہمی تعاون کے ذریعے مستقل حل کی خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی ترجیح سیاسی محاذ آرائی نہیں، بلکہ عوام اور کسانوں کے لیے پانی کا حصول ہے۔

متعلقہ خبریں
دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج کامیاب زندگی کی ضمانت ہے، وزیرِ اقلیتی بہبود و قانون کا جامعۃ المؤمنات میں خطاب
چیف منسٹر پر کذب بیانی کے ٹی آر کا الزام
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
بے روزگار نوجوانوں کیلئے ڈی ای ای ٹی ایک مؤثر ڈیجیٹل پلیٹ فارم: اقلیتی بہبود آفیسر آر۔ اندرا
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا

وزیرِ اعلیٰ یہ باتیں رنگا ریڈی ضلع کے مہیشورم منڈل کے راویریال ای-سٹی میں سُوزن میڈیکیئر کے آئی وی فلوئڈز مینوفیکچرنگ یونٹ کے افتتاح کے موقع پر ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔

ریونت ریڈی نے کہا کہ اگر ایک طرف تنازع اور دوسری طرف پانی کا انتخاب ہو تو تلنگانہ ہمیشہ پانی کو ترجیح دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دریا کے پانی کے مسائل کو سیاست کی نذر نہیں کرنا چاہیے، بلکہ عدالتوں میں طویل مقدمات کے بجائے بامقصد بات چیت کے ذریعے حل نکالا جانا چاہیے۔ انہوں نے ہمسایہ ریاستوں سے اپیل کی کہ ترقی کے لیے تعاون اور مفاہمت کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھیں۔

وزیرِ اعلیٰ نے دریائے کرشنا سے متعلق منصوبوں پر بات کرتے ہوئے آندھرا پردیش کے وزیرِ اعلیٰ این۔ چندرابو نائیڈو سے اپیل کی کہ متحدہ آندھرا پردیش کے دور میں منظور شدہ منصوبوں میں رکاوٹیں نہ ڈالی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پالامورو–رنگا ریڈی، کالواکرثی، ڈنڈی، ایس ایل بی سی، بھیما اور نٹمپاڈو جیسے منصوبے اعتراضات کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہیں، جس کے باعث ماحولیاتی منظوریوں، فنڈنگ اور ریاست پر مالی بوجھ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ دریا کے پانی کے تنازعات کا مستقل اور منصفانہ حل چاہتا ہے۔ ان کے مطابق آندھرا پردیش، کرناٹک، مہاراشٹر اور تمل ناڈو کے تعاون کے بغیر علاقائی ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بندرگاہ سے محروم تلنگانہ کے لیے مچیلی پٹنم پورٹ کنیکٹیویٹی نہایت اہم ہے، اسی مقصد کے لیے 12 لین گرین فیلڈ ایکسپریس وے اور ریلوے کنیکٹیویٹی کی اجازت طلب کی گئی ہے، جس کے لیے ہمسایہ ریاستوں کا تعاون ضروری ہے۔

وزیرِ اعلیٰ نے ریاست کے طویل مدتی ترقیاتی منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ تلنگانہ رائزنگ 2047 ویژن دستاویز جاری کی جا چکی ہے، جس میں CURE، PURE اور RARE فریم ورک کے تحت ترقی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ آئی ٹی، فارما، ڈیٹا سینٹرز، گلوبل کیپیبیلٹی سینٹرز اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں عالمی سطح پر جرمنی، جاپان، جنوبی کوریا اور نیویارک جیسے خطوں سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ریونت ریڈی نے زور دیا کہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں نجی سرمایہ کاری کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے شفاف پالیسیاں تیار کی گئی ہیں، جبکہ بھارت فیوچر سٹی جیسے منصوبے معاشی سرگرمیوں اور زمین کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کریں گے۔

انہوں نے جرمن ٹیکنالوجی کے ذریعے قائم کیے گئے آئی وی فلوئڈز مینوفیکچرنگ یونٹ کو جنوبی ہند کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ اپنے خطاب کے اختتام پر وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ 30 برسوں کی مسلسل محنت نے حیدرآباد کو عالمی شہروں کے ہم پلہ کھڑا کیا ہے، اور ریاست کی ہمہ گیر ترقی صرف اجتماعی تعاون سے ہی ممکن ہے۔