سوال:- اگر رمضان المبارک کی شب میں میاںبیوی کے تعلق کی نوبت آئی، اور کسی وجہ سے فجر سے پہلے غسل نہیں کرسکے، صبح ۸، ۱۰/بجے غسل کیا، تو کیا اس سے روزہ پر کوئی اثر پڑے گا؟
(محمد انظر علی، سکندرآباد)
جواب:- نماز کے لئے پاک ہونا شرط ہے، روزہ کے لئے پاک ہونا شرط نہیں ہے؛ البتہ یہ ضروری ہے کہ عورتیں حیض یا نفاس کی حالت میں نہ ہوں، اس لئے ہونا تو یہ چاہئے کہ اگر غسل کرنے سے کوئی مانع نہیں ہو تو جب سحری کے لئے اٹھے،
اسی وقت غسل کرلے، اوراگر بیمار ہونے یا بیمار ی بڑھ جانے کے قوی اندیشہ کی وجہ سے پانی کا استعمال کرنا دشوار ہو تو تیمم کرلیا جائے، تاکہ فجر کی نماز قضا نہ ہو، اور پورا روزہ پاکی کی حالت میں ہو،
تاہم اگر ایسا نہیں ہوسکا اور روزہ کا کچھ حصہ ناپاکی کی حالت میں گزرگیا، تب بھی روزہ درست ہوجائے گا، بلکہ اگر پورا دن بھی اس حالت میں گزر جائے تو گو نماز کے ترک کرنے اور دوسری عبادتوں سے محروم ہونے کا گناہ ہوگا،
لیکن روزہ ادا ہوجائے گا: أو اصبح جنبا ( وإن بقی کل الیوم ) لم یفطر (درمختار مع الرد:۳؍۳۷۲)