دہلی

سپریم کورٹ نے 14 سالہ عصمت دری کی شکار کو اسقاط حمل کی دی اجازت

سپریم کورٹ نے پیر کو 14 سالہ عصمت دری کی شکار لڑکی کو غیر معمولی حالات اور متعلقہ میڈیکل رپورٹس کے پیش نظر اپنا 30 ہفتہ کا حمل ختم کرنے کی اجازت دے دی۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پیر کو 14 سالہ عصمت دری کی شکار لڑکی کو غیر معمولی حالات اور متعلقہ میڈیکل رپورٹس کے پیش نظر اپنا 30 ہفتہ کا حمل ختم کرنے کی اجازت دے دی۔

متعلقہ خبریں
عیدالفطر سےقبل بی جے پی کامودی کٹس کاوزیرگجیندر سنگھ شیخاوت کےہاتھوں پوسٹر جاری۔
مذہبی مقامات قانون، سپریم کورٹ میں پیر کے دن سماعت
طاہر حسین کی درخواست ضمانت پرسپریم کورٹ کا منقسم فیصلہ
آتشبازی پر سال بھر امتناع ضروری: سپریم کورٹ
گروپI امتحانات، 46مراکز پر امتحان کا آغاز

چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس جے بی پارڈی والا کی بنچ نے متاثرہ کی ماں کی طرف سے داخل کی گئی درخواست پر غور کرنے کے بعد آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت مکمل انصاف فراہم کرنے کے اپنے اختیار کا استعمال کرتے ہوئے یہ حکم دیا۔

سپریم کورٹ نے ممبئی ہائی کورٹ کے 24 اپریل کے حکم کو مسترد کر دیا، جس نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے متاثرہ کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا، بنچ نے کہا ’’میڈیکل بورڈ نے واضح طور پر کہا ہے کہ حمل سے اس نابالغ کی ذہنی اور جسمانی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔‘‘

بنچ نے 19 اپریل کو اپنا حکم جاری کرنے کے لئے اس عدالت کی ہدایت پر ساین ہسپتال، ممبئی کے ذریعہ تشکیل دیئے گئے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پر بھروسہ کیا۔

عدالت عظمیٰ نے نابالغ کے اسقاط حمل کے لیے ساین اسپتال کو ڈاکٹروں کی ایک ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت کی۔

سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا کہ اس معاملے میں ایف آئی آر ’میڈیکل ٹرمینیشن آف پریگننسی ایکٹ‘کے تحت 24 ہفتوں کی مدت کے بعد درج کی گئی تھی۔

نابالغ لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی اور اس کے بعد وہ حاملہ ہوگئی، اس سلسلے میں 20 مارچ کو نئی ممبئی میں ایف آئی آر بھی درج کرائی گئی۔