مشرق وسطیٰ

غزہ معاملہ کا کوئی فوجی حل نہیں محمود عباس کی بوریل سے گفتگو

فلسطینی صدر محمود عباس نے یوروپی یونین کے نمائندہ برائے خارجہ اور سیاسی امور جوزف بوریل سے رملہ میں فلسطینی صدارتی دفتر میں ملاقات کی۔

رملہ: فلسطینی صدر محمود عباس نے یوروپی یونین کے نمائندہ برائے خارجہ اور سیاسی امور جوزف بوریل سے رملہ میں فلسطینی صدارتی دفتر میں ملاقات کی۔

محمود عباس نے بوریل سے گفتگو میں کہا کہ یوروپی یونین کی طرف سے اسرائیل پر دباؤ ڈالا جائے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غزہ میں امدادی سامان کے داخلے کی اجازت دی جائے۔

فلسطینی خبر رساں ادارے کے مطابق محمود عباس نے القدس، غزہ کی پٹی اور مغربی کنارہ سے فلسطینیوں کی نقل مکانی کو دو ٹوک انداز میں مسترد کرنے کے اپنے موقف کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا غزہ کی پٹی کا کوئی سکیورٹی یا فوجی حل نہیں ہے۔ غزہ کی پٹی فلسطینی ریاست کا اٹوٹ حصہ ہے۔

فلسطینی صدر نے یورپی یونین اور اس کے رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطین کی ریاست اور اقوام متحدہ میں اس کی مکمل رکنیت کو تسلیم کریں۔

بعد ازاں فلسطینی وزیر اعظم محمد اشتیہ نے بوریل کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ غزہ سے بے گھر ہونے والوں کو اپنے گھروں کو واپس جانے کی اجازت دی جانی چاہیے۔