آندھراپردیش

ٹماٹر کے کاشتکار کوڑی کوڑی کو محتاج۔ ایک روپیہ کلو بھی خریدار نہ ملنے پر فصل کھیتوں میں ہی سڑنے لگی

آندھرا پردیش کے ضلع کرشنا میں ٹماٹر کے کاشتکار اس وقت انتہائی کسمپرسی کی حالت میں ہیں اور انہیں تاریخ کے بدترین مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ضلع کے موپیدیوی، اونی گڈا اور چیلہ پلی منڈلوں میں تقریباً 900 ایکڑ پر ٹماٹر کی فصل کاشت کرنے والے کسان خون کے آنسو رو رہے ہیں۔

حیدرآباد: آندھرا پردیش کے ضلع کرشنا میں ٹماٹر کے کاشتکار اس وقت انتہائی کسمپرسی کی حالت میں ہیں اور انہیں تاریخ کے بدترین مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ضلع کے موپیدیوی، اونی گڈا اور چیلہ پلی منڈلوں میں تقریباً 900 ایکڑ پر ٹماٹر کی فصل کاشت کرنے والے کسان خون کے آنسو رو رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں
دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج کامیاب زندگی کی ضمانت ہے، وزیرِ اقلیتی بہبود و قانون کا جامعۃ المؤمنات میں خطاب
بچوں کے سامنے ہوم گارڈ کا خاتون کے ساتھ ’مجرا‘ — ویڈیو وائرل ہونے کےبعد محکمہ نے فوراً ڈیوٹی سے ہٹا دیا
اےپی کے وجیانگرم میں نو بیاہتا جوڑا مشتبہ حالات میں مردہ پایاگیا
آکاش ایجوکیشنل سروسز نے تلگو زبان میں یوٹیوب چینل کا آغاز کر کے امیدواروں کیلئے تعلیمی رسائی بڑھا دی
سمہا چلم اپنا سوامی مندر میں دیوار گرنے کا واقعہ، سافٹ ویر انجینئر جواڑا سمیت 8 افراد ہلاک

صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ مارکٹ میں ٹماٹر محض 2 روپے کلو کی قیمت پر بھی فروخت کو تیار نہیں جبکہ کسانوں کو فی کلو ایک روپیہ بھی بچت میں نہیں مل رہا۔

گزشتہ دسمبر میں جب ٹماٹر کی قیمت 40 روپے کلو تک پہنچی تھی تو کاشتکاروں نے اس امید پر بڑے پیمانہ پر کاشت کی تھی کہ اس بار اچھی آمدنی ہوگی لیکن فصل تیار ہوتے ہی مارکٹ میں قیمتیں اس حد تک گر گئیں کہ اب لاگت نکالنا تو دورمزدوروں کی مزدوری ادا کرنا بھی ناممکن ہو گیا ہے۔


متاثرہ کسانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے فی ایکڑ 40 سے 60 ہزار روپے تک کی سرمایہ کاری کی ہے لیکن اب 30 کلو ٹماٹر کا باکس 70 سے 100 روپے میں بھی کوئی لینے کو تیار نہیں۔ مارکٹنگ کے حکام کی عدم توجہی اور حکومت کی جانب سے ایم ایس پی فراہم نہ کئے جانے کی وجہ سے کسانوں نے مجبوراً فصل کو کھیتوں میں ہی چھوڑ دیا ہے جہاں ٹنوں کے حساب سے ٹماٹر دھوپ میں سوکھ کر سڑ رہے ہیں اور ان کی بدبو دور دور تک پھیل رہی ہے۔

کاشتکاروں نے روتے ہوئے بتایا کہ فصل توڑنے اور منڈی تک لے جانے کا خرچہ بھی جیب سے بھرنا پڑ رہا ہے جس کی وجہ سے وہ قرضوں کے بوجھ تلے دب گئے ہیں۔


کسانوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ان کی حالت زار پر رحم کھایا جائے اور فوری طور پر مداخلت کر کے ٹماٹر کی مناسب قیمت مقرر کی جائے تاکہ وہ خودکشی جیسے انتہائی اقدامات پر مجبور نہ ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ محنت اور سرمایہ ڈوب جانے کے بعد اب ان کے پاس اپنے خاندان کی کفالت کا کوئی راستہ نہیں بچا۔