حیدرآباد

حیدرآباد کے چرلہ پلی اسٹیشن سے چنئی سنٹرل جانے والی ٹرین بڑے حادثہ سے بال بال بچ گئی

تفصیلات کے مطابق رات تقریباً 2 بج کر 58 منٹ پر جب یہ ٹرین سری پوٹی سری راملو نیلور ضلع کے بٹرا گنٹہ اسٹیشن سے گزر رہی تھی، تو وہاں سگنل ڈینجر یعنی خطرہ کا نشان دے رہا تھا لیکن ٹرین رکنے کے بجائے اسے عبور کر گئی۔

حیدرآباد: حیدرآباد کے چرلہ پلی اسٹیشن سے چنئی سنٹرل جانے والی سوپر فاسٹ ایکسپریس ٹرین نمبر 12604 ایک بڑے حادثہ سے بال بال بچ گئی۔

متعلقہ خبریں
شانگریلا گروپ کی جانب سے معذورین کے لیے خصوصی دعوتِ افطار، ماہرین کا تعلیم و تعاون پر زور
الانصار فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام نمازِ تہجد میں تکمیلِ قرآن، جامع مسجد محبوبیہ میں روحانی اجتماع
امریکہ میں شبِ قدر کے موقع پر مسجد دارالعلوم فاؤنڈیشن میں تہنیتی تقریب، مولانا محمد وحید اللہ خان کی 30 سالہ خدمات کا اعتراف
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
حیدرآباد کی سرزمین اپنی گنگا جمنی تہذیب کے باعث صدیوں سے محبت، رواداری اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال رہی ہے، اور آج بھی یہ خوبصورت روایت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔


تفصیلات کے مطابق رات تقریباً 2 بج کر 58 منٹ پر جب یہ ٹرین سری پوٹی سری راملو نیلور ضلع کے بٹرا گنٹہ اسٹیشن سے گزر رہی تھی، تو وہاں سگنل ڈینجر یعنی خطرہ کا نشان دے رہا تھا لیکن ٹرین رکنے کے بجائے اسے عبور کر گئی۔

ٹرین سگنل توڑنے کے بعد تقریباً آدھا کلومیٹر آگے جا کر رکی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹرین اسی تیز رفتاری سے جاری رہتی تو کوئی خطرناک حادثہ پیش آ سکتا تھا۔


اس سنگین لاپرواہی کے بعد ریلوے حکام نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر ٹرین کو وہیں روک دیا اور لوکو پائلٹس و ٹرین مینیجر کو فوری طور پر ڈیوٹی سے ہٹا کر نیچے اتار لیا گیا۔

مسافروں کی روانگی کے لئے متبادل عملہ کا انتظام کر کے ٹرین کو آگے بڑھنے کی اجازت دی گئی۔ فی الحال ڈویژنل سطح کے اعلیٰ حکام اور طبی ماہرین کی ٹیمیں اس واقعہ کی وجوہات جاننے کے لئے متعلقہ عملہ سے پوچھ گچھ کر رہی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ سگنل نظر انداز ہونے کی اصل وجہ کیا تھی۔