حیدرآباد

حیدرآباد کے چرلہ پلی اسٹیشن سے چنئی سنٹرل جانے والی ٹرین بڑے حادثہ سے بال بال بچ گئی

تفصیلات کے مطابق رات تقریباً 2 بج کر 58 منٹ پر جب یہ ٹرین سری پوٹی سری راملو نیلور ضلع کے بٹرا گنٹہ اسٹیشن سے گزر رہی تھی، تو وہاں سگنل ڈینجر یعنی خطرہ کا نشان دے رہا تھا لیکن ٹرین رکنے کے بجائے اسے عبور کر گئی۔

حیدرآباد: حیدرآباد کے چرلہ پلی اسٹیشن سے چنئی سنٹرل جانے والی سوپر فاسٹ ایکسپریس ٹرین نمبر 12604 ایک بڑے حادثہ سے بال بال بچ گئی۔

متعلقہ خبریں
مدرسہ صفۃ المسلمین ناچارم ولیج کا 14واں عظیم الشان اجلاسِ عام منعقد، فضائلِ قرآن پر خطابات، حفاظ کی دستاربندی
غریبوں کو مکانات نہ ملنے پر آواز تنظیم کا کلکٹر سے رجوع
چنچل گوڑہ میں شبِ برات کے موقع پر مرکزی جلسہ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ، 3 فروری کو انعقاد
اقراء مشن ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج، کے ۴۰ سالہ ‘روبی جوبلی’ جشن کا شاندار انعقاد
اولیاء اللہ کے آستانے امن و سلامتی، یکجہتی اور بھائی چارہ کے مراکز،ہنری مارٹن انسٹیٹیوٹ کے غیر ملکی طلباء کا دورہ درگاہ حضرت برہنہ شاہؒ


تفصیلات کے مطابق رات تقریباً 2 بج کر 58 منٹ پر جب یہ ٹرین سری پوٹی سری راملو نیلور ضلع کے بٹرا گنٹہ اسٹیشن سے گزر رہی تھی، تو وہاں سگنل ڈینجر یعنی خطرہ کا نشان دے رہا تھا لیکن ٹرین رکنے کے بجائے اسے عبور کر گئی۔

ٹرین سگنل توڑنے کے بعد تقریباً آدھا کلومیٹر آگے جا کر رکی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹرین اسی تیز رفتاری سے جاری رہتی تو کوئی خطرناک حادثہ پیش آ سکتا تھا۔


اس سنگین لاپرواہی کے بعد ریلوے حکام نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر ٹرین کو وہیں روک دیا اور لوکو پائلٹس و ٹرین مینیجر کو فوری طور پر ڈیوٹی سے ہٹا کر نیچے اتار لیا گیا۔

مسافروں کی روانگی کے لئے متبادل عملہ کا انتظام کر کے ٹرین کو آگے بڑھنے کی اجازت دی گئی۔ فی الحال ڈویژنل سطح کے اعلیٰ حکام اور طبی ماہرین کی ٹیمیں اس واقعہ کی وجوہات جاننے کے لئے متعلقہ عملہ سے پوچھ گچھ کر رہی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ سگنل نظر انداز ہونے کی اصل وجہ کیا تھی۔