ٹرمپ نے فورٹ ہُڈ حملے کے مجرم کو دی جانے والی سزائے موت کی براہِ راست نشریات منسوخ کی
اس سے پہلے ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ فورٹ ہُڈ حملے کے مجرم کی موت دکھائے جانے کے حق میں ہیں، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس نے اس پر شبہ ظاہر کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اسے نہیں دیکھیں گے۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکی فوج کے سابق ماہرِ نفسیات ندال حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے دی جانے والی سزائے موت کی براہِ راست نشریات کا منصوبہ منسوخ کر دیا ہے۔
اس سے پہلے ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ فورٹ ہُڈ حملے کے مجرم کی موت دکھائے جانے کے حق میں ہیں، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس نے اس پر شبہ ظاہر کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اسے نہیں دیکھیں گے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکہ اور دنیا بھر میں شدید تنقید کے بعد ٹرمپ نے براہِ راست نشریات منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔
جمعرات کو انہوں نے کہا کہ ”بہت سے اچھے اور نیک ارادے رکھنے والے لوگ شاید اسے مرتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہیں گے۔”
ٹرمپ نے کہاکہ ”میرا خیال ہے کہ اگر اس سزا کی براہِ راست نشریات سب کے لیے کی جاتیں تو یہ دنیا کے لیے ایک سخت پیغام ہوتا کہ امریکہ دہشت گردوں اور حسن جیسے گھٹیا لوگوں سے کیسے نمٹتا ہے۔”
صدر نے ‘ٹروتھ سوشل’ پر اپنی پوسٹ میں مزید کہاکہ ”اسے طے شدہ پروگرام کے مطابق فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے ہی سزائے موت دی جائے گی، لیکن اس واقعے کی براہِ راست نشریات نہیں کی جائیں گی۔”
سال 2009 میں ٹیکساس کے ایک فوجی اڈے پر حسن نے امریکی فوج کے 13 نہتے جوانوں کو گولی مار کر ہلاک اور 32 دیگر افراد کو زخمی کر دیا تھا۔ فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے دی جانے والی یہ سزا 60 سال سے زیادہ عرصے میں فوج کی جانب سے دی جانے والی پہلی سزائے موت ہوگی۔
ٹرمپ نے کہا کہ متاثرین کے اہلِ خانہ چاہیں تو خود وہاں موجود رہ کر سزائے موت دیے جانے کا عمل دیکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ”انہیں انصاف ہوتا دیکھنے کا حق ہے!”
گزشتہ ہفتے پینٹاگون نے اعلان کیا تھا کہ وہ 3 دسمبر 2026 کو حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دے گا اور اس واقعے کی براہِ راست نشریات بھی کرے گا۔ اس کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں اور کئی دیگر لوگوں کی جانب سے شدید تنقید شروع ہو گئی۔ اقوام متحدہ نے ان منصوبوں کو ”گھناؤنا” قرار دیا۔
گزشتہ سال 17 ممالک میں 2700 سے زیادہ لوگوں کو سزائے موت دی گئی، لیکن ان میں سے صرف 2 ممالک نے یہ سزا عوام کے سامنے دی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق، 2025 میں ایران میں 11 اور افغانستان میں 6 افراد کو سرِعام سزائے موت دی گئی تھی۔