ٹرمپ کی مقبولیت ریکارڈ گراوٹ کے ساتھ 31 فیصد پر، وسط مدتی انتخابات سے پہلے ریپبلکن پارٹی کی مشکلات میں اضافہ
سروے میں شامل 66 فیصد افراد نے ٹرمپ کی کارکردگی پر عدم اطمینان ظاہر کیا، جبکہ ان کی مقبولیت گزشتہ سروے کے مقابلے میں ایک فیصد پوائنٹ کم ہوئی ہے، جو دو ہفتے پہلے کیا گیا تھا۔ یہ شرح ٹرمپ کی دونوں صدارتی مدتوں کے دوران ریکارڈ کی گئی سب سے کم سطح ہے۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح گر کر ریکارڈ کم ترین سطح 31 فیصد پر آگئی ہے۔ پیر کو جاری رائٹرز/اِپسوس کے سروے کے مطابق، نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں اب صرف دو ہفتے باقی رہ گئے ہیں۔
سروے میں شامل 66 فیصد افراد نے ٹرمپ کی کارکردگی پر عدم اطمینان ظاہر کیا، جبکہ ان کی مقبولیت گزشتہ سروے کے مقابلے میں ایک فیصد پوائنٹ کم ہوئی ہے، جو دو ہفتے پہلے کیا گیا تھا۔ یہ شرح ٹرمپ کی دونوں صدارتی مدتوں کے دوران ریکارڈ کی گئی سب سے کم سطح ہے۔
معاشی معاملات پر عدم اطمینان خاص طور پر نمایاں رہا۔ سروے میں 68 فیصد افراد نے معیشت سے متعلق ٹرمپ کی کارکردگی کو ناپسند کیا، جن میں خود کو ریپبلکن قرار دینے والے 37 فیصد افراد بھی شامل ہیں۔
اتوار کو جاری واشنگٹن پوسٹ، اے بی سی نیوز اور اِپسوس کے ایک الگ سروے میں ٹرمپ کی مقبولیت 33 فیصد درج کی گئی، جو جولائی کے مقابلے میں چار فیصد پوائنٹ کم اور ان کی پہلی صدارتی مدت کے دوران ریکارڈ کی گئی کسی بھی سطح سے نیچے ہے۔
رائٹرز/اِپسوس کے سروے میں ایوانِ نمائندگان کے انتخابات کے لیے بھی ڈیموکریٹک پارٹی کو ریپبلکن پارٹی پر 12 فیصد پوائنٹ کی برتری حاصل رہی۔ رجسٹرڈ ووٹروں میں سے 47 فیصد نے ڈیموکریٹک امیدواروں جبکہ 35 فیصد نے ریپبلکن امیدواروں کی حمایت کی۔
موجودہ انتخابی دور میں اس سروے کے دوران ڈیموکریٹس کی یہ سب سے بڑی برتری ہے۔ دو ہفتے پہلے کانگریس کا کنٹرول کس جماعت کے پاس ہونا چاہیے، اس سوال پر ڈیموکریٹس کو 44 فیصد اور ریپبلکنز کو 37 فیصد حمایت حاصل تھی۔
یہ نتائج 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد عوامی بے اطمینانی میں اضافے کے درمیان سامنے آئے ہیں۔ اس کے بعد شروع ہونے والی جنگ نے ملک بھر میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو عملاً بند کیے جانے سے عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔
ٹرمپ نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن حالیہ ہفتوں میں معمولی کمی کے باوجود پٹرول پمپوں پر قیمتیں بلند سطح پر برقرار ہیں۔ امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن (اے اے اے) کے مطابق، منگل کو امریکہ میں پٹرول کی اوسط قیمت 4.28 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال اسی وقت کے مقابلے میں تقریباً 1.30 ڈالر زیادہ ہے۔
ریپبلکن پارٹی کو ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ، دونوں میں اپنا کنٹرول کھونے کا خدشہ ہے۔ اس صورت حال میں ٹرمپ نے ووٹروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ”یہ فرض کریں کہ میں بھی انتخابی میدان میں ہوں”۔ انہوں نے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ اگر ریپبلکن پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنا کنٹرول برقرار رکھتی ہے تو ہر بالغ امریکی شہری کو 5,000 ڈالر دیے جائیں گے۔
ٹرمپ نے پیر کو ریاست کنساس میں ریپبلکن سینیٹر راجر مارشل کی انتخابی مہم کے دوران کسانوں کو فصل کی کٹائی کے موسم میں ڈیزل کے اخراجات سے راحت دینے کے لیے آٹھ ارب ڈالر کے فنڈ کا اعلان بھی کیا۔