سوشیل میڈیامذہب

ایک ہی سال میں دو رمضان اور دو عیدیں! یہ نایاب موقع کب آئے گا ضرور جانئیے؟

سال 2033 میں مسلمانوں کو ایک ہی سال میں دو مرتبہ عیدالفطر منانے کا موقع ملے گا۔ فلکیاتی اندازوں کے مطابق پہلی عیدالفطر جنوری کے آغاز میں 2 یا 3 جنوری کو ہو سکتی ہے، جبکہ دوسری عیدالفطر اسی سال 23 یا 24 دسمبر کے آس پاس منائی جائے گی۔

حیدرآباد: دنیا بھر کے مسلمان عام طور پر سال میں ایک مرتبہ ماہِ رمضان کا استقبال کرتے ہیں اور ایک ہی بار عیدالفطر مناتے ہیں، مگر ہر 32 یا 33 سال بعد وقت کا پہیہ ایک ایسا نایاب منظر دکھاتا ہے جب ایک ہی عیسوی سال میں دو رمضان اور دو عیدالفطر آتی ہیں۔ ایسا ہی ایک دلچسپ اور غیر معمولی موقع ایک بار پھر آنے والا ہے۔

متعلقہ خبریں
جمعتہ الوداع: احساس اور عبادت کا دن – مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری
رمضان المبارک میں صدقات، خیرات اور محاسبہ نفس: ایک روحانی سفرتحریر: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری
جنگ بدر: حق و باطل کا پہلا فیصلہ کن معرکہ، مرکز نالج سٹی میں عظیم الشان روحانی کانفرنس
روزہ انسان کے لئے بہیمی اور حیوانی عنصر پر روحانی اور ملکوتی عنصر کو غالب کرنے کا سبب: مولانا قاضی اسد ثنائی
رمضان میں اردومیڈیم اسکولس کے اوقات میں تبدیلی سے متعلق نمائندگی

اس وقت دنیا بھر کے مسلمان رمضان المبارک کی آمد کے منتظر ہیں اور اس مقدس مہینے میں اب ڈیڑھ ماہ سے بھی کم وقت باقی ہے۔ عام حالات میں رمضان اور عیدالفطر سال میں ایک بار ہی آتے ہیں، لیکن اسلامی قمری تقویم اور عیسوی گریگورین کیلنڈر کے فرق کی وجہ سے بعض برس ایسے بھی آتے ہیں جب یہ دونوں عبادات اور خوشیاں ایک ہی سال میں دو مرتبہ نصیب ہوتی ہیں۔

ماہرین فلکیات کے مطابق سال 2030 میں دنیا بھر کے مسلمان ایک ہی سال میں دو بار ماہِ رمضان کا استقبال کریں گے۔ پہلا رمضان ممکنہ طور پر 5 جنوری 2030 کے آس پاس شروع ہوگا، جب کہ اسی سال دوسرا رمضان 26 دسمبر کے قریب آغاز کر سکتا ہے۔ اس طرح جنوری میں مکمل 29 یا 30 روزے رکھے جائیں گے، جبکہ دسمبر میں تقریباً 6 روزے نصیب ہوں گے۔ یوں 2030 میں مجموعی طور پر روزوں کی تعداد 35 یا 36 تک پہنچ سکتی ہے، جو ایک منفرد اعزاز ہوگا۔

اسی طرح سال 2033 میں مسلمانوں کو ایک ہی سال میں دو مرتبہ عیدالفطر منانے کا موقع ملے گا۔ فلکیاتی اندازوں کے مطابق پہلی عیدالفطر جنوری کے آغاز میں 2 یا 3 جنوری کو ہو سکتی ہے، جبکہ دوسری عیدالفطر اسی سال 23 یا 24 دسمبر کے آس پاس منائی جائے گی۔

اس غیر معمولی صورتحال کی بنیادی وجہ اسلامی اور عیسوی کیلنڈرز کے درمیان دنوں کا فرق ہے۔ عیسوی سال 365 دنوں پر مشتمل ہوتا ہے، جبکہ لیپ ایئر میں یہ 366 دن کا ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس اسلامی قمری سال 354 یا 355 دنوں کا ہوتا ہے، جو چاند کے حساب سے چلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی سال ہر عیسوی سال کے مقابلے میں تقریباً 10 سے 11 دن پیچھے ہوتا چلا جاتا ہے اور بالآخر ہر 32 یا 33 سال بعد ایک پورا اسلامی سال عیسوی کیلنڈر میں سمٹ آتا ہے۔

ماضی میں بھی ایسا نایاب موقع آ چکا ہے۔ آخری مرتبہ 1997 میں ایک ہی سال میں دو رمضان المبارک آئے تھے، جبکہ 2000 میں مسلمانوں نے دو بار عیدالفطر منائی تھی۔

دوسری جانب رواں برس رمضان المبارک کے آغاز کے حوالے سے اندازہ ہے کہ یہ 17 یا 18 فروری سے شروع ہو سکتا ہے، تاہم ہر ملک میں رمضان کے آغاز کا حتمی اعلان مقامی رویتِ ہلال کمیٹی کی جانب سے چاند دیکھنے کے بعد ہی کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ اگرچہ فلکیاتی حسابات کے ذریعے رمضان اور عید کی ممکنہ تاریخوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، لیکن اسلامی روایت کے مطابق ان کا قطعی فیصلہ چاند کی رویت پر ہی ہوتا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور کئی دیگر اسلامی ممالک میں آج بھی انسانی آنکھ سے چاند دیکھنے کو ترجیح دی جاتی ہے، جبکہ بعض ممالک سائنسی حسابات پر انحصار کرتے ہیں۔

یوں آنے والے برس مسلمانوں کے لیے عبادت اور خوشیوں کے اعتبار سے ایک منفرد اور یادگار تجربہ لے کر آ رہے ہیں، جس کا دنیا بھر میں بے صبری سے انتظار کیا جا رہا ہے۔