بیوی–دیور کا ناپاک رشتہ، بیوی اور بھائی نے ہی ایک معصوم شوہر کا قتل کردیا
ایک ماہ تک دونوں ملزم گھر والوں اور پولیس کو دھوکہ دیتے رہے اور پرمیشور کی گمشدگی کا ڈرامہ کرتے رہے۔ تاہم، کچھ دن قبل تالاب سے ایک بوسیدہ لاش برآمد ہوئی۔ چہرہ ناقابلِ شناخت تھا، مگر بازو پر بنے "چھترپتی" کے ٹیٹو اور کپڑوں نے لاش کی شناخت کروا دی۔ والد نے لاش دیکھتے ہی زار و قطار روتے ہوئے اپنے بیٹے کو پہچان لیا۔
جالنہ: مہاراشٹر کے ضلع جالنا میں پیش آیا ایک خوفناک اور شرمناک واقعہ پورے علاقے میں ہلچل مچا رہا ہے، جہاں ایک بیوی اور اس کے بھائی نے مل کر ایک بےگناہ شوہر کو بےرحمی سے قتل کر دیا۔ یہ واقعہ خاندانی رشتوں کی حرمت اور اعتماد پر سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق 35 سالہ پرمیشور تیاڈے اپنی بیوی منیشا اور دو چھوٹی بچیوں کے ساتھ رہتا تھا۔ ظاہری طور پر سب کچھ معمول کے مطابق تھا، مگر گھر کے اندر ایک خطرناک سازش پروان چڑھ رہی تھی۔ پولیس کے مطابق منیشا کا اپنے دیور دنیشنور کے ساتھ ناجائز تعلق تھا، اور پرمیشور اس رشتے کی مسلسل مخالفت کر رہا تھا، جو بالآخر اس کے قتل کی وجہ بن گیا۔
پولیس رپورٹ کے مطابق 15 اکتوبر کی نصف شب دونوں ملزمان نے منصوبہ بندی کے تحت قتل کی لرزہ خیز واردات انجام دی۔ پہلے دنیشنور نے اپنے بڑے بھائی کے سر پر کلہاڑی سے وار کیا، اس کے بعد منیشا نے کپڑے سے اس کا گلا گھونٹ کر جان لے لی۔ واردات کو چھپانے کے لیے لاش کو پلاسٹک میں لپیٹ کر رسیوں سے باندھا، اس پر پتھر لٹکائے اور اسے تالاب میں پھینک دیا۔
ایک ماہ تک دونوں ملزم گھر والوں اور پولیس کو دھوکہ دیتے رہے اور پرمیشور کی گمشدگی کا ڈرامہ کرتے رہے۔ تاہم، کچھ دن قبل تالاب سے ایک بوسیدہ لاش برآمد ہوئی۔ چہرہ ناقابلِ شناخت تھا، مگر بازو پر بنے "چھترپتی” کے ٹیٹو اور کپڑوں نے لاش کی شناخت کروا دی۔ والد نے لاش دیکھتے ہی زار و قطار روتے ہوئے اپنے بیٹے کو پہچان لیا۔
اس ہولناک واقعے نے نہ صرف خاندان بلکہ پورے علاقے کو صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔ پولیس نے دونوں ملزمان کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے، جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔
پرمیشور اپنی دو کم سن بچیوں کو ہمیشہ کے لیے بےسہارا چھوڑ گیا ہے۔ ایک طرف والد کا سایہ ختم ہوا اور دوسری طرف والدہ کے ہاتھوں ہونے والے قتل نے ان کے مستقبل پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
یہ واقعہ صرف ایک قتل نہیں بلکہ رشتوں کی نزاکت، اعتماد اور خاندانی اقدار کے زوال کی دردناک علامت ہے۔